جنوبی ایشیا میں تمباکو نوشی کے استعمال میں 70 فیصد سے 37 فیصد کمی خوش آئند پیش رفت ہے ، پاکستان بھی مستقل عوامی آگاہی، مضبوط تعلیمی مہمات اور عالمی بہترین طریقہ کار اپنانے سے یہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے، مرتضیٰ سولنگی

بدھ 15 اکتوبر 2025 21:17

جنوبی ایشیا میں تمباکو نوشی کے استعمال میں 70 فیصد سے 37 فیصد کمی  خوش ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اکتوبر2025ء) صدر پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین عالمی تمباکو وباء رپورٹ ایک واضح اور فوری پیغام دیتی ہے کہ تمباکو اب بھی لوگوں کی جانیں لے رہا ہے،ہمیں اس نقصان سے بچنے کیلئے  تمباکو کی تشہیر، اشتہار اور سرپرستی (ٹی اے پی ایس) پر مکمل پابندی سمیت تصویری صحت انتباہات (جی ایچ ڈبلیوز) کے سائز میں اضافہ جیسے جرأت مندانہ اقدامات کرنے کی اشد ضروت ہے، دنیا بھر میں تمباکو ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی جانیں لیتا ہے جو کہ ایچ آئی وی، تپ دق (ٹی بی) اور ملیریا سے ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہیں۔

تمباکو کے استعمال کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بوجھ، پیداواری صلاحیت میں کمی، اور خاندانوں پر جذباتی و مالی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے دو روزہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا جس کا عنوان ’’عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی عالمی تمباکو وباء رپورٹ 2025 اور تمباکو کی تشہیر، اشتہار اور سرپرستی (ٹی اے پی ایس) اور تصویری صحت انتباہات (جی ایچ ڈبلیوز) پر بہترین عالمی طریقہ کار‘‘ تھا۔

اجلاس کا مقصد پاکستان میں تمباکو نوشی کے کنٹرول کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) اور اس کے MPOWER اجزاء کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی صدر پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ تمباکو استعمال کرنے والے افراد ہیں اور ہر سال 1 لاکھ 66 ہزار سے زائد اموات تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں تمباکو نوشی کے استعمال میں 70 فیصد سے 37 فیصد کمی کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی مستقل عوامی آگاہی، مضبوط تعلیمی مہمات اور عالمی بہترین طریقہ کار اپنانے سے یہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے کہا کہ تشویشناک اعداد و شمار سے ہٹ کر اصل خطرہ نوجوانوں میں تمباکو مصنوعات کی بڑھتی ہوئی کشش ہے، نوجوانوں کو اکثر بالواسطہ تشہیری طریقوں جیسے دلکش پیکنگ، تقریبات کی سرپرستی اور آن لائن مواد کے ذریعے متاثر کیا جاتا ہے جس سے تمباکو محفوظ یا پرکشش محسوس ہوتا ہے۔

ڈاکٹر چیمہ نے زور دیا کہ موجودہ قوانین کے باوجود ٹی اے پی ایس کے کئی پہلو ابھی بھی موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی میں موجود کمزوریوں کو قانون سازی اور عوامی آگاہی کے ذریعے دور کرنا ہوگا۔ تقریب کے میزبان پروگرام مینجر سپارک ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں پیش رفت کی ہے، مگر تشہیری سرگرمیاں ابھی بھی صارفین کے رویے کو بالواسطہ طور پر متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق جن ممالک نے ٹی اے پی ایس پر مکمل پابندی عائد کی ہے وہاں خاص طور پر نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ تمام براہ راست اور بالواسطہ تشہیری ذرائع پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ ڈاکٹر خلیل نے مزید کہا کہ تصویری صحت انتباہات ایک ثابت شدہ اور موثر طریقہ ہیں جو تمباکو نوشوں کو چھوڑنے پر آمادہ کرتے ہیں اور نوجوانوں کو ابتدا سے روکنے میں مدد دیتے ہیں، چیئرمین و ایڈیٹر ان چیف پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک نے میڈیا کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آبزرور میں ہم اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ عوام میں آگاہی پیدا کریں، تمباکو نوشی چھوڑنے کی حوصلہ افزائی کریں اور تمام متعلقہ اداروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے جوابدہ بنائیں۔

میڈیا کو تجارتی دبائو سے بالاتر ہو کر صحت، سچائی، اور دیانت کے اصولوں کو اپنانا چاہیے۔ہمیں منافع کے بجائے لوگوں کے تحفظ کو ترجیح دینی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے ہم جیت سکتے ہیں، مگر صرف اسی صورت میں جب ہم سب مل کر، جرأت کے ساتھ اور فیصلہ کن انداز میں کام کریں۔ اس میں حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا، صحت کے ماہرین، اساتذہ، والدین اور نوجوان سب کا کردار اہم ہے۔

اجلاس میں فیصلہ سازوں، سرکاری عہدیداران، صحافیوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم، میڈیا پیشہ وران، اور نوجوان تنظیموں نے شرکت کی۔ شرکا نے پاکستان میں تصویری صحت انتباہات (جی ایچ ڈبلیوز) کے نفاذ اور تمباکو تشہیر، اشتہار اور سرپرستی (ٹی اے پی ایس) سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور زور دیا کہ مزید مضبوط نفاذ اور مربوط اقدامات کے ذریعے تمباکو کنٹرول کی رفتار تیز کی جائے۔