تمباکو کی تشہیر پر مکمل پابندی اور تصویری صحت انتباہات کے سائز میں اضافہ جیسے اقدامات کرنے کی اشد ضروت ہے، مرتضیٰ سولنگی

پالیسی میں موجود کمزوریوں کو قانون سازی اور عوامی آگاہی کے ذریعے دور کرنا ہوگا،ڈاکٹر نحار احمد چیمہ …وقت آگیا ہے کہ تمام براہ راست اور بالواسطہ تشہیری ذرائع پر مکمل پابندی لگائی جائے، ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر

بدھ 15 اکتوبر 2025 20:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2025ء) سابق نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، صدر پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین عالمی تمباکو وبا رپورٹ ایک واضح اور فوری پیغام دیتی ہے، تمباکو اب بھی لوگوں کی جانیں لے رہا ہے، اور اگر ہم نے تمباکو کی تشہیر، اشتہار، اور سرپرستی (TAPS)پر مکمل پابندی اور تصویری صحت انتباہات (GHWs)کے سائز میں اضافہ جیسے جرات مندانہ اقدامات کرنے کی اشد ضروت ہے، دنیا بھر میں تمباکو ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی جانیں لیتا ہے، جو کہ ایچ آئی وی، تپ دق (TB)اور ملیریا سے ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہیں۔

تمباکو کے استعمال کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بوجھ، پیداواری صلاحیت میں کمی، اور خاندانوں پر جذباتی و مالی دبا کا باعث بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

مرتضیٰ سولنگی نے ان خیالات کا اظہار سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک)کے دو روزہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا جس کا عنوان تھاعالمی ادارہ صحت (WHO)کی عالمی تمباکو وبا رپورٹ 2025اور تمباکو کی تشہیر، اشتہار اور سرپرستی (TAPS)اور تصویری صحت انتباہات (GHWs)پر بہترین عالمی طریقہ کار۔

اس اجلاس کا مقصد پاکستان میں تمباکو نوشی کے کنٹرول کے حوالے سے WHOفریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC)اور اس کے MPOWERاجزا کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہاکہ پاکستان ایک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں تقریباً 2کروڑ 70لاکھ تمباکو استعمال کرنے والے افراد ہیں اور ہر سال 1لاکھ 66ہزار سے زائد اموات تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں تمباکو نوشی کے استعمال میں 70فیصد سے 37فیصد کمی کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی مستقل عوامی آگاہی، مضبوط تعلیمی مہمات، اور عالمی بہترین طریقہ کار اپنانے سے یہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے کہا کہ تشویشناک اعداد و شمار سے ہٹ کر اصل خطرہ نوجوانوں میں تمباکو مصنوعات کی بڑھتی ہوئی کشش ہے، نوجوانوں کو اکثر بالواسطہ تشہیری طریقوں جیسے دلکش پیکنگ، تقریبات کی سرپرستی، اور آن لائن مواد کے ذریعے متاثر کیا جاتا ہے، جس سے تمباکو محفوظ یا پرکشش محسوس ہوتا ہے۔

ڈاکٹر چیمہ نے زور دیا کہ موجودہ قوانین کے باوجود TAPSکے کئی پہلو ابھی بھی موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے،پالیسی میں موجود کمزوریوں کو قانون سازی اور عوامی آگاہی کے ذریعے دور کرنا ہوگا۔ تقریب کے میزبان پروگرام مینیجر سپارک ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں پیش رفت کی ہے، مگر تشہیری سرگرمیاں ابھی بھی صارفین کے رویے کو بالواسطہ طور پر متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ WHOکے مطابق جن ممالک نے TAPSپر مکمل پابندی عائد کی ہے وہاں خاص طور پر نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے،اب وقت آ گیا ہے کہ تمام براہ راست اور بالواسطہ تشہیری ذرائع پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ ڈاکٹر خلیل نے کہا کہ تصویری صحت انتباہات ایک ثابت شدہ اور موثر طریقہ ہیں جو تمباکو نوشوں کو چھوڑنے پر آمادہ کرتے ہیں اور نوجوانوں کو ابتدا سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

چیئرمین و ایڈیٹر ان چیف پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک نے میڈیا کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آبزرور میں ہم اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ عوام میں آگاہی پیدا کریں، تمباکو نوشی چھوڑنے کی حوصلہ افزائی کریں، اور تمام متعلقہ اداروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے جوابدہ بنائیں۔ میڈیا کو تجارتی دبا سے بالاتر ہو کر صحت، سچائی، اور دیانت کے اصولوں کو اپنانا چاہیے۔

ہمیں منافع کے بجائے لوگوں کے تحفظ کو ترجیح دینی ہوگی۔ فیصل زاہد ملک نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے ہم جیت سکتے ہیں، مگر صرف اسی صورت میں جب ہم سب مل کر، جرات کے ساتھ اور فیصلہ کن انداز میں کام کریں۔ حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا، صحت کے ماہرین، اساتذہ، والدین، اور نوجوان سب کا کردار اہم ہے۔ اجلاس میں فیصلہ سازوں، سرکاری عہدیداران، صحافیوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم، میڈیا پیشہ وران، اور نوجوان تنظیموں نے شرکت کی۔ شرکا نے پاکستان میں تصویری صحت انتباہات (GHWs)کے نفاذ اور تمباکو تشہیر، اشتہار اور سرپرستی (TAPS)سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور زور دیا کہ مزید مضبوط نفاذ اور مربوط اقدامات کے ذریعے تمباکو کنٹرول کی رفتار تیز کی جائے۔