بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل

ہفتہ 6 دسمبر 2025 13:20

بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 دسمبر2025ء) بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل ہو گئے جبکہ سربراہ بھارتی انٹیلی جنس بیورو ملوئے کرشنا نے انکشاف کیا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بی جے پی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشاد نے 10 ماہ پہلے بنایا۔6دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا، حملہ کرنے والوں کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد اور بجرنگ دل سے تھا، انتہا پسندوں نے کلہاڑیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے بابری مسجد کو نشانہ بنایا۔

بابری مسجد کی شہادت کے دوران مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج اور مزاحمت کی گئی، فسادات کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔

(جاری ہے)

بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی نے انتہا پسند ہندوؤں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لئے اشتعال دلایا، 2009 میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنماؤں سمیت 68افراد کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔

بابری مسجد کی شہادت کے بعد بی جے پی کی لوک سبھا میں سیٹیں 121 سے بڑھ کر 188 ہوگئیں، 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی بے حرمتی بین الاقوامی اصولوں کے منافی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی، 1992 سے اب تک صرف بھارتی ریاست گجرات میں 500 مساجد شہید اور ان گنت مزارات ڈھائے جا چکے ہیں۔