کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 دسمبر2025ء) آرٹس کونسل آف
پاکستان کراچی کی جانب سے منعقدہ چار روزہ ’’اٹھارہویں عالمی اردو کانفرنس 2025 ۔ جشن پاکستان‘‘ کے دوسرے روز دوسرے سیشن ’’ اردو نظم‘‘ کا انعقاد آڈیٹوریم I میں کیا گیا جس کی صدارت افضال احمد سید نے کی۔ اظہارِ خیال کرنے والوں میں تنویر انجم، فراست رضوی، نجیب جمال، سید
عامر سہیل، فہیم شناس کاظمی شامل تھے جبکہ سلمان ثروت نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
اس موقع پر صدارتی خطبہ میں افضال احمد سید نے کہاکہ اردو نظم میں معاصر شاعری کے حوالے سے تفصیلی بات ہوئی، اردو شاعری کا منظر نامہ نسرین انجم بھٹی، سارا شگفتہ، حمایت علی شاعر، ذیشان ساحل کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا، اس طرح کے اجلاس کا انعقاد خوش آئند ہے، یہ معلومات کا ایک ذریعہ ہے، معروف نظم نگار سید
عامر سہیل نے ’’فیض احمد فیض ،مجید امجد اور جوش ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ تینوں شاعر اہمیت کے حامل ہیں، ان کی کتابیں بھی مرتب ہوئی، جوش صاحب ہماری جدید نظم کا ایک ایسا تہذیبی حوالہ ہے جہاں ایک تہذیبی رخ دوسرے تہذیبی رخ میں منتقل ہوتی نظر آتا ہے، جوش کے ہاں عشق و محبت ملتی ہے خاص طور پر ترقی پسند انسان تھے، جوش کی شاعری کا اہم پہلو لفظ کا استعمال ہے، ہمیں ان کی شاعری میں گھن گھرج اور بلند آہنگ لہجہ کے ساتھ ساتھ جوش بھی نظر آتا ہے، فیض احمد فیض ترقی پسند لوگوں کے زیادہ محبوب رہے، فیض صاحب ہمارے اجتماعی ضمیر کی آواز تھے، فیض احمد فیض کا تہذیبی اور ثقافتی پس منظر جوش صاحب سے مختلف تھا، فیض صاحب کی شاعری کلاسک سے کشید ہوتی ہے اور روایت سے ہوتی ہوئی نئے راستے اور استعارے بناتی ہے اور نئی علامتیں لے کر آتی ہے۔
(جاری ہے)
فیض احمد فیض کی شاعری میں احساسِ شراکت بہت زیادہ پایا جاتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ شاعری میری لیے ہی کی گئی ہے۔ معروف شاعر فراست رضوی نے ’’میرا جی، مصطفی زیدی اور سارا شگفتہ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ
میرا جی ایک رجحان ساز شاعر تھے، اردو ادب کی تاریخ میں ایسے لوگ کم ملتے ہیں جو ایک مکتبہ فکر کی حیثیت رکھتے ہوں، وہ تنہا اپنی ذات میں ایک دانش گاہ تھے،
حلقہ اربابِ ذوق کی بہت سی شخصیات مشہور ہیں جن میں یوسف ظفر، مختار صدیقی، الطاف گوہر ، ضیاء جالندھری شامل ہیں لیکن اس کی بنیادی شخصیت
میرا جی تھے، ان کی زندگی بہت دکھوں میں گزری انہوں نے بہت کم عمر پائی، انہوں نے 37سال کی کم عمری میں جتنا لکھا اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے،
میرا جی نے اپنی شاعری کو مقامی ثقافت سے جوڑا، خاص طور پر ہندو تہذیب اور ہندی دیومالا ان کی شاعری کا ایک غالب حصہ ہے۔
وہ روایت سے مختلف نظر آتے تھے، اگر ہم فکری دھارے تلاش کریں تو اس میں سماج کے مسائل کو ہمیں لکھنا ہے، سماجی آگاہی شاعری اور ادب کی روح ہے ۔ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی جو تقسیم ہے وہ بھی اسی بنیاد پر ہے جس میں ایک طرف
میرا جی ہیں اور دوسری طرف سجاد ظہیر کا نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ تکرار اور نقالی سے کبھی بڑا ادب پیدا نہیں ہوتا، ادب کے لیے اس کا حقیقی ہونا ضروری ہے اور ایسی بات کہے جو پہلے نہ کہی گئی ہو۔
ن۔ م راشد کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان ثروت نے کہاکہ راشد جدید اردو نظم کے سرخیل کہہ سکتے ہیں، ان کی نظم نہ صرف سنگ میل بلکہ اہم موڑ بھی تھی، انہوں نے اردو شاعری کو کئی نئی جہتوں سے بھی روشناس کرایا، آپ کے چار شعری مجموعے منظر عام پر آئے۔ ثروت حسین کی آزاد نظموں میں روانی نظر آتی ہے، ان کی نظموں میں ایک کیفیت تھی، سلمان نے ثروت حسین کی نظمیں پڑھ کر سنائیں۔
اصغر ندیم سید نے ’’احمد ندیم قاسمی اور منیر نیازی‘‘ پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ یہ دونوں اپنے وقت کے بڑے اور مختلف شاعر گزرے۔ احمد ندیم قاسمی جس دور میں آئے وہ ترقی پسند تحریک کا دور تھا ان کے شغف بے شمار تھے، انہوں نے مجلسی زندگی بھرپور انداز میں گزاری جو ادبی مکالمے کی شکل ہے جس میں
پروین شاکر سے لے کر امجد اسلام امجد تک پورا ایک دور ہے۔
نقوش اور فنون دو بڑے ادبی پرچے جس کو انہوں نے بڑا وقت دیا، ترقی پسند زمانے میں افسانہ اور شاعری دونوں دھارے طاقت کے ساتھ چلے، انہوں نے عورت کے حقوق کے حوالے سے بھی افسانے لکھے، منیر نیازی جب باغوں یا درختوں کو چھوڑ کر آتے ہیں تو ان کی یادیں ساتھ لے آتے ہیں، منیر کے ہاں سیاسی واقعات کا براہ راست ردعمل ہے،منیر نیازی بہت سوچ سمجھ کر شاعری کرتے تھے۔
نقاد و محقق
ڈاکٹر نجیب جمال نے ’’اختر حسین جعفری اور حبیب جالب‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جعفری صاحب کی نظموں میں استعارہ در استعارہ ، تمثیل اور شعری تمثیلیں پیکر سازی ا ن کا خاص عمل ہے، ہمارے ہاں ایسے لوگ اردو شاعری میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کو ہم عالمی سطح پر ہم کسی جگہ رکھ کر دیکھ سکیں، اگر ہمارے ہاں تنقید کا دروازہ بالکل بند ہوچکا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تنقید ہماری اس طرح سے سچ نہیں بولتی ، ہماری دل جوئی نہیں کرتی ہمارے شاعروں کے بارے میں ہمیں اتنی خبر نہیں دیتی کہ ہمارے یہ شاعر بھی کسی سطح پر پہنچ سکیں۔
غزل ہو، نظم ہو یا فکشن کی بہت ساری صورتیں کسی بھی طرح کم نہیں ہیں ، حبیب جالب کے ہاں سماج کے ساتھ ساتھ سیاست اور نیرنگی دوراں سب کچھ نمایاں نظر آتا ہے، وہ بہت شدت سے اس کا اظہار بھی کیا کرتے، بعض نظمیں تو ایسی ہیں جنہیں بچہ بچہ جانتا ہے اور وہ نظمیں گائی بھی جاتی ہیں اور بعض نظموں نے حکومتیں تبدیل کردیں جن میں ’’بیس روپیہ من آتا۔
۔اس پر بھی سناٹا‘‘ شامل ہے۔ ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو ۔میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا‘‘ ایک نظم اداکارہ نیلو پر بھی لکھی۔ حبیب جالب شاعر عوام تھے۔ معروف شاعرہ تنویر انجم نے ’’فہمیدہ
ریاض اور نسرین انجم بھٹی‘‘ پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ فہمیدہ
ریاض کا پہلا مجموعہ ’’پتھر کی زبان ‘‘اکیس سال کی عمر میں شائع ہوا،ان کی آزاد روی اس کتاب میں مکمل اظہار کرتی نظر آئی، فہمیدہ
ریاض کی نظمیں بھی پڑھ کر سنائی۔
فہیم شناس کاظمی نے ’’عزیز حامد مدنی، حمایت علی شاعر اور ذیشان ساحل‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عزیز حامد مدنی کے لیے سلیم احمد نے فرمایا تھا کہ وہ بڑے شہر کے شاعر ہیں جو شاید
کراچی کے حوالے سے تھا، عزیز حامد مدنی بمبئی، علی گڑھ،
لاہور ، رائے پور، ناگ پور اور دیگر شہروں میں اس وقت زندگی بسر کی جب اضطراب کا دور تھا۔ مدنی کی جو ثقافتی سطح ہے وہ اقبال کی ہند اسلامی تہذیب کی جانب ہے، مدنی صاحب نے اپنی کتابوں میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کا بھی ذکر کیا ہے، ان کا اسلوب دبیز اور تہہ دار ہے، ان کی سائنس و
ٹیکنالوجی ، معاشیات اور سیاسیات کے کردار کو وہ بخوبی جانتے ہیں۔