عمران خان سے بہنوں کی ملاقات نہ کروانا بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے

ملک میں عملاً جنگل کا قانون نافذ ہے اور یہ رویہ کھلی بربریت کے مترادف ہے، سابق وزیراعظم کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اسد قیصر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 31 دسمبر 2025 19:10

عمران خان سے بہنوں کی ملاقات نہ کروانا بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ..
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے۔ 30 دسمبر 2025ء ) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ عمران خان سے بہنوں کی ملاقات نہ کروانا بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، ملک میں عملاً جنگل کا قانون نافذ ہے اور یہ رویہ کھلی بربریت کے مترادف ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان سے اُن کی بہنوں کی ملاقات نہ کروانا بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اس وقت ملک میں عملاً جنگل کا قانون نافذ ہے اور یہ رویہ کھلی بربریت کے مترادف ہے۔ جیل مینوئل کے مطابق قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو بھی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت حاصل ہوتی ہے، مگر عمران خان، جو اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم، ملک کے سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر اور قومی ہیرو ہیں، کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

عمران خان وہ شخصیت ہیں جنہوں نے قوم کو شوکت خانم جیسے عالمی معیار کے فلاحی ادارے اور نمل یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے دیے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر اور بھرپور آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن مقرر کیا۔ ایسے لیڈر کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھنا نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ انتہائی شرمناک عمل ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات اگر ہوں گے تو عمران خان کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، سابق وزیراعظم اپنی سزا بھگتیں گے، این آر او نہیں ملے گا انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پی ٹی آئی سے مذاکرات سے متعلق پیپلز پارٹی سے ابھی بات نہیں ہوئی، مذاکرات کی بات ہوتی تو چیئرمین پیپلز پارٹی کوئی بیان دیتے. گورنر کے پی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک شخص کے لیے صوبے کو تباہ کیا ہوا ہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ اپنے صوبے پر بھی توجہ دے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ 16 مہینے کی حکومت میں ہم نے اتحادیوں اور پی ٹی آئی کو بٹھایا تھا، اس کے بعد پی ٹی آئی نے 9 مئی جیسے واقعات کیے. انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ چاہتے ہیں کہ سیاسی مسئلے کا حل سیاست دان نکالیں، پی ٹی آئی قیادت ایک طرف کہتی ہے کہ مذاکرات کرتے ہیں، دوسری طرف عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی سے متعلق انتشار انگیز ٹوئٹ کرتے ہیں گورنر کے پی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی فیصلہ کرلے کہ ان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ پی ٹی آئی والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ہی نہیں ہے. فیصل کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا نام دیا، پتہ نہیں ان لیڈرز کی ایکسپائری تاریخ کب ہے؟ پی ٹی آئی کا کسی سے کام ختم ہو جائے تو اسے فارغ کر دیتی ہے۔