قومی امن رابطہ کونسل کا‘‘جاگ کراچی جاگ تحریک’’شروع کرنے کا اعلان

بدھ 14 جنوری 2026 22:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جنوری2026ء) قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کی جانب سے کراچی کے حقوق کے حصول اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف منعقدہ پریس کانفرنس میں ملک بھر کی سماجی و عوامی تنظیموں نے مشترکہ طور پر‘‘جاگ کراچی جاگ تحریک’’کے آغاز کا اعلان کردیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کے بانی و چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ اولیاء کرام کے پیغامِ امن و آشتی والی سندھ دھرتی کو اسٹریٹ کرائمز کا آتش فشاں بنانے والے ناسوروں کا خاتمہ صرف ملی یکجہتی اور عوامی طاقت سے ممکن ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ قومی امن رابطہ کونسل پاکستان حسبِ روایت ملک بھر کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی 800 شخصیات کو عزم و استقلال ایوارڈ دے گی۔

(جاری ہے)

پریس کانفرنس میں فقیر ملک محمد شکیل قاسمی، علامہ محمد حفیظ اللہ ہادیہ،،ندیم شہزاد،، ارشاد الرحمن مصطفائی،قاری غلام یاسین قادری،ندیم خان،حکیم شکیل احمد،حسیب شہزاد، مفتی عابد حسین مہروی،مجیب شہزاد، علامہ محمد افضل قادری،شہزاداحسن، مفتی امین شاہ، قمرالدین، قاری طارق نظر، مفتی عارف اور سر عمر سمیت دیگر سماجی و مذہبی شخصیات و عہدیداروں نے شرکت کی۔

پیر احمد عمران نقشبندی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ قومی امن رابطہ کونسل پاکستان کو یہ تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ اس نے 28 اکتوبر 1994ء کو مزار قائد تا پریس کلب پہلا امن مارچ نکالا اور 1994ء سے 1997ء تک غیر سیاسی بنیادوں پر محلہ امن کمیٹیاں قائم کیں، جو اس وقت کے صدر پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری کی ہدایات پر ایوان صدر کے کنٹرول نمبر 92/200563 کے تحت قائم ہوئیں اور اس ضمن میں سندھ حکومت کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو باقاعدہ احکامات جاری کیے گئے تھے۔

مقررین نے کراچی اور سندھ بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، مسلح ڈکیتیوں، لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائمز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈمپروں اور ٹینکروں سے ہونے والے جان لیوا حادثات سندھ حکومت، محکمہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈمپر مافیا بے لگام ہے جبکہ عام شہری مہنگائی، بجلی، گیس اور پانی کے بھاری بلوں اور چالانوں کے بوجھ تلے پس رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ قومی امن رابطہ کونسل پاکستان لسانیت اور عصبیت کی سیاست کو یکسر مسترد کرتی ہے اور 1980ء سے مستقل قیامِ امن کے لیے کوشاں ہے۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ 23 مارچ سے کراچی سمیت سندھ بھر میں امن مارچز، امن سیمینارز اور آل پارٹیز کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ اپنی مدد آپ کے تحت محلہ امن کمیٹیوں کے قیام اور جہادِ امن کے شعور کو دوبارہ اجاگر کیا جائے گا۔

قومی امن رابطہ کونسل پاکستان نے بتایا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے مئی 2024ء میں محلہ امن کمیٹیوں کے دوباہ قیام کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں اور بعد ازاں چیف سیکریٹری سندھ نے بھی متعلقہ محکموں کو احکامات دیے، تاہم افسوس کہ انیس ماہ گزرنے کے باوجود تاحال ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر سندھ حکومت، محکمہ داخلہ اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، نفری کو پروٹوکول کے بجائے عوامی تحفظ پر تعینات کیا جائے اور جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، لینڈ اور فٹ پاتھ مافیا سمیت ڈمپر مافیاکے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔