غلام مرتضی جتوئی کے خلاف مختلف تھانوں میںدرج مقدمات کی سماعت 2مارچ تک ملتوی

جمعرات 22 جنوری 2026 17:00

لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2026ء) جی ڈی اے کے مرکزی رہنما اور نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضی جتوئی ڈوکری اور باڈھ تھانوں میں درج مقدمات کے سلسلے میں اپنے وکلا کے ہمراہ لاڑکانہ کی فرسٹ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت نے سماعت 2 مارچ تک ملتوی کر دی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مرتضی جتوئی نے کہا کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کئے گئے ہیں، وہ کسی چوری، ڈکیتی یا پولیس پر فائرنگ میں ملوث نہیں، بلکہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل پیشی کی تاریخ دی جا رہی ہیں اور فیصلے میں تاخیر حکومتی وکلا کی حکمتِ عملی ہی. غلام مرتضی جتوئی نے پیپلز پارٹی کی 17 سالہ کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جتنی تباہی اس دور میں ہوئی وہ گزشتہ 50 برس میں بھی نہیں ہوئی. ان کا کہنا تھا کہ عوام پیپلز پارٹی کی طرزِ حکمرانی سے بیزار ہو چکے ہیں اور جب یہ حکومت ختم ہوگی تو لوگ خوشی منائیں گی. انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی عوامی طاقت کا اندازہ ہو سکے۔

(جاری ہے)

غلام مرتضی جتوئی نے عدالتی نظام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شروع سے کہتا آ رہا ہوں کہ 70 فیصد ججز درست طریقے سے کام کر رہے ہیں، جبکہ 30 فیصد ججز یا تو کمپرومائز ہو چکے ہیں، یا دباؤ میں ہیں، اسی لئے وہ درست فیصلے نہیں کر پا رہے۔ آخر یہ کون سا قانون ہے کہ جسے چاہو سرِعام گولی مار دو، کبھی ٹانگ میں، کبھی سینے میں یا سیدھی جان سے مار دو۔