سپریم کورٹ ،او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتی کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ بری

منگل 3 فروری 2026 15:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 فروری2026ء) سپریم کورٹ نے او جی ڈی سی ایل میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس میں سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ کی نظرِ ثانی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ سابق وزیر کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری تقرریوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پہلے اشتہار جاری کیا جاتا ہےجبکہ او جی ڈی سی ایل میں گریڈ 4 اور 5 کے لیے 145 افراد کو تقرری لیٹرز جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق سابق وزیر کی موجودگی میں تین افراد نے جوائننگ دی جبکہ 24 ملازمین نے بعد میں ملازمت سنبھالی۔

(جاری ہے)

جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اس وقت کے چیئرمین او جی ڈی سی ایل کو نامزد نہ کر کے بدنیتی ظاہر کی گئی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر چیئرمین پر دباؤ تھا تو انہیں اس کی مزاحمت کرنی چاہیے تھی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ اپنی ذات کے لیے کام کرنے اور کسی اور کے لیے کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اپنایا کہ سابق وزیر کی جانب سے چیئرمین او جی ڈی سی ایل پر دباؤ ڈالا گیا تاہم جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ عوام عموماً وزرا سے نوکریوں کی درخواست کرتے ہیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ہمارا موقف یہی ہے کہ مخصوص افراد کو نوازا گیا اور قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں سزا ہونے کے بعد ایسا سلسلہ رکا؟ جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ قتل کے مقدمات میں سزائے موت دینے کے باوجود کیا جرائم ختم ہو جاتے ہیں، اور اگر ایسے افراد کو چھوڑ دیا جائے تو وہ جا کر کہیں گے کہ کچھ نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے سابق وزیر انور سیف اللہ کو ایک سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں بری کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا، جہاں تین رکنی بینچ نے جرمانہ ختم کرتے ہوئے قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف سابق وزیر کی جانب سے نظرِ ثانی درخواست دائر کی گئی، جسے سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر بری کر دیا۔