�الہ حکمرانی نے سندھ کا وقار مجروح کیا، ووٹ کو آزاد کرانا ہوگا، پڑھے لکھے افراد قوم کی قیادت کریں، قادر مگسی

منگل 10 فروری 2026 22:00

بدین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 فروری2026ء) سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی 17 سالہ حکمرانی نے قوم کی حیا، غیرت، عزت اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لیے پڑھے لکھے افراد کو سندھ کے وقار کی بحالی کے لیے آگے آنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدین میں ایس ٹی پی کے ضلعی صدر شاہ نواز سیال کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ووٹ کا تقدس پامال کیا گیا ہے اور ووٹ کو آزاد کرانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھی عوام ووٹ کی آزادی اور اس کے درست استعمال سے اپنی حالت بدل سکتے ہیں، مگر جن نمائندوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا جاتا ہے وہ عوام کی فلاح کے بجائے اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی، اس کے باوجود وہ غریبوں کے علاج، ادویات، تعلیم، صاف پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی حقوق کے لیے مختص فنڈز ہڑپ کر لیتے ہیں اور مسکین عوام پر ذرہ برابر رحم نہیں کرتے۔

ڈاکٹر قادر مگسی نے الزام عائد کیا کہ اس وقت ایک اے ایس آئی کی نوکری کے لیے بھی 60 لاکھ روپے تک لیے جا رہے ہیں، جبکہ چپڑاسی کی ملازمت بھی لاکھوں میں فروخت ہو رہی ہے، جو پڑھے لکھے نوجوانوں کی شدید تضحیک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں صنعتی ادارے قائم نہیں کیے جا رہے تاکہ غریبوں کو روزگار نہ مل سکے، بلکہ جو شوگر ملز اور کارخانے موجود تھے انہیں بھی بند کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہزاروں مزدور بے روزگار ہو کر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مختلف طریقوں سے سندھ کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس ملک کے اصل مالک سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچ ہیں، مگر فرسودہ نظام کے تحت وڈیروں اور کرپٹ عناصر کی حکمرانی جاری ہے، جس سے عوام استحصال کا شکار ہیں۔ایس ٹی پی سربراہ نے خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقے پر زور دیا کہ وہ بریانی کی پلیٹ، خوف اور لالچ کی سیاست سے باہر نکل کر قوم کی قیادت کریں، ووٹ کے تقدس کی بحالی اور کھوئے ہوئے وقار کی واپسی کے لیے جدوجہد کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایس ٹی پی کا پلیٹ فارم ہر وقت دستیاب ہے۔افغانستان کی جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسے اسلام کی جنگ قرار دیتے تھے، امریکہ نے خود اسے روس کے خلاف اپنے مفادات کی جنگ قرار دے کر ان کی حقیقت واضح کر دی ہے۔ اس موقع پر ایس ٹی پی کے رہنما ڈاکٹر سومار مگریو، علی حیدر پھنور ، ریاض مصطفی آرائیں، گل محمد شاہ، اسلم مہندو، سلطان بوہڑ، عبداللہ اعوان، دلبر لونڈ اور یاسر سیال بھی موجود تھے۔