جامعہ کراچی میں اے آئی کے صنعتی اطلاق پر سیمینار، ماہرین کا تحقیق کو معاشرتی مسائل سے جوڑنے پر زور
جمعہ 13 فروری 2026 17:20
(جاری ہے)
وائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس دانوں اور محققین کو اے آئی ٹولز کا موثر اور ذمہ دارانہ استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحقیقی مقالوں کے امپیکٹ فیکٹر کو اہمیت دی جاتی ہے، تاہم تحقیق کی اصل قدر اس کے عملی اطلاق اور معاشرتی مسائل کے حل میں مضمر ہے۔
تحقیق کو محض اشاعت یا اعداد و شمار تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے نتائج کو معاشرے کی بہتری کے لیے بروئے کار لانا ضروری ہے۔ڈاکٹرخالدعراقی نے کہا کہ صنعتی شعبہ تیزی سے تبدیلیوں سے گزر رہا ہے اور مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تجارت کو امن کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اگرچہ ان کے انداز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران تجارت کو دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام کے لیے ایک موثر ذریعہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ امن کے قیام میں نہ تو میزائل ٹیکنالوجی کارگر ثابت ہوئی اور نہ ہی عسکری طاقت، بلکہ تجارت نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت کا صنعت سے براہِ راست تعلق ہے، لہذا صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت، سے استفادہ ناگزیر ہے۔بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے کہا کہ علم کی ترویج اور اشاعت جامعہ کا بنیادی مقصد ہے۔ یونیورسٹی جدید اور ابھرتے ہوئے تحقیقی شعبوں میں علم کی منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ علمی و تحقیقی معیار کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیمینار نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس میں شرکت کرنے والوں کے لیے فکری طور پر متحرک اور بصیرت افروز تجربہ ثابت ہوگا۔صوابی ویمن یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر اور جامعہ کراچی کی سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی نے کہا کہ شعب کیمیکل انجینئرنگ کے اسکالرز نے تقریب کے انعقاد میں گہری دلچسپی لی اور بھرپور محنت سے اسے کامیاب بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ نے ذمہ داری اور جذبے کے ساتھ انتظامات میں حصہ لیا، جبکہ رضاکاروں کی طویل فہرست اس امر کی غماز ہے کہ بڑی تعداد میں طلبہ نے پروگرام کی کامیابی میں فعال کردار ادا کیا۔قبل ازیں این ای ڈی یونیورسٹی کے شعب فوڈ انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید علی عمار تقوی نے ایپلیکیشن آف اے آئی اِن کیمیکل پروسیس انڈسٹریز پر تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے طلبہ کو آگاہ کیا کہ مصنوعی ذہانت نے کس طرح مختلف شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں برپا کی ہیں۔آخر میں شعب کیمیکل انجینئرنگ، جامعہ کراچی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اشتیاق نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی تحقیق وہی ہے جو صنعتی اور معاشرتی مسائل کے حل میں عملی معاونت فراہم کرے۔مزید تعلیم کی خبریں
-
انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات 2026 ء کی ڈیٹ شیٹ جاری
-
طلبہ وطالبات کی بائیو میٹرک فنگر پرنٹس کے بغیر آن لائن رجسٹریشن کا پراسیس مکمل نہیں ہو گا
-
پنجاب میں ویٹرنری گریجویٹس اور پیراویٹس کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان
-
چوہدری شافع حسین کا پنجاب تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی لاہور کا دورہ، مختلف پروگراموں کا افتتاح کیا
-
سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج جاری، کامیابی کی شرح 2.67 فیصد
-
ہائرایجوکیشن کمیشن نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے ایک جدید اور جامع ڈیٹا سسٹم ہیڈز پلیٹ فارم لانچ کر دیا
-
پی ایم ایس 2025،راولپنڈی کے امیدواروں کے امتحانی مراکز لاہور منتقل
-
ْایچ ای سی نے ملک بھر میں بلااجازت نئی یونیورسٹی یا سب کیمپس کے قیام پر پابندی عائد کردی
-
پنجاب یونیورسٹی کا امتحانی نتائج کا اعلان
-
ساہیوال بورڈ کے زیر انتظام نہم کے پہلے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا ہے،کنٹرولر امتحانات
-
کراچی، میٹرک امتحانات میں غیر قانونی سینٹر تبدیلی، وزیر بورڈز اینڈ یونیورسٹی کا اچانک چھاپہ، مرکز منسوخ کرنے کا حکم
-
کراچی میں کیمسٹری کا پرچہ امتحان سے قبل لیک، تعلیمی نظام پر سنگین سوالات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.