جرمن حکومت شامی باشندوں کو اپنے وطن واپس جانے پر مجبور کر رہی ہے

DW ڈی ڈبلیو اتوار 15 فروری 2026 13:40

جرمن حکومت شامی باشندوں کو اپنے وطن واپس جانے پر مجبور کر رہی ہے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 فروری 2026ء) 2025 میں جرمنی میں مقیم تقریباً 6,000 شامی شہریوں نےشام جانے کے لیے رضاکارانہ واپسی کی درخواستیں جمع کرائیں۔ ان میں سے 3,678 افراد اپنے جنگ زدہ وطن لوٹ چکے ہیں، جبکہ باقی شامیوں کی درخواستیں جانچ کے مراحل میں ہیں۔

جرمن وفاقی دفتر برائے مہاجرت و پناہ گزین (BAMF) نے اس واپسی پروگرام کے لیے مالی معاونت فراہم کی، جس میں سفر کے اخراجات کے علاوہ ہر بالغ کے لیے 1,000 یورو اور ہر نابالغ کے لیے 500 یورو کی امداد شامل ہے۔

یہ پروگرام سابقہ معطلی کے بعد تقریباً ایک سال پہلے دوبارہ شروع کیا گیا تھا، جو شام میں جنگی حالات کے سبب منسوخ کر دیا گیا تھا۔ 2024 کے آخر میں صدر بشارالاسد کی برطرفی کے بعد شام واپس جانے کے خواہشمند شامیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

(جاری ہے)

تاہم، ماہرین کے مطابق سکیورٹی کے سنگین خدشات اور تعمیر نو کی سست رفتاری کے باعث شام اب بھی عدم استحکام کا شکار ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر شامی مہاجرین واپسی کے فیصلے پر غور نہیں کر پا رہے۔

BAMF کے مطابق، 2025 میں مجموعی طور پر 16,576 افراد نے جرمنی سے اپنے آبائی ممالک یا کسی تیسرے ملک میں رضاکارانہ واپسی کی۔ ان میں بڑی تعداد ترکی، شام، جارجیا اور عراق جانے والوں کی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے 10,358 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

جنگ زدہ شام میں تباہ کن انسانی حالات

کیا شامی باشندوں کی اپنے ملک رضاکارانہ واپسی واقعی ایک کامیابی کی کہانی ہے؟ جرمنی کی بائیں بازو کی پارٹی کی رہنما، آئرس شویڈٹنر کا کہنا ہے کہ شام اب بھی خانہ جنگی جیسے حالات کا سامنا کر رہا ہے اور جرمنی کو نہ تو وہاں کسی کو جبراً بھیجنا چاہیے اور نہ ہی لوگوں کو خود واپس جانے کی ترغیب دینی چاہیے۔

ان کے مطابق، اس معاملے پر ہونے والی تمام بحث فی الحال بالکل ''غیر مناسب‘‘ ہے۔

ژوہانیٹر انٹرنیشنل اسسٹنس کی کمیونیکیشن سربراہ، زانڈرا لورینس، جو شمال مغربی شام میں شراکت دار اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھ سکتی ہیں کہ لوگ اپنے وطن واپس کیوں جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے یہ یوکرین میں بھی دیکھا ہے کہ حملوں کے باوجود لوگ اپنے گاؤں لوٹنا چاہتے ہیں۔

یہ بالکل فطری بات ہے۔ لیکن انہیں یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس صورتِ حال میں جا رہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اور جو لوگ وہاں آج بھی رہ رہے ہیں، انہیں جاری لڑائیوں کی وجہ سے مسلسل بے گھر ہونا پڑ رہا ہے۔‘‘

لورینس کے مطابق حلب اور عفرین جیسے شہروں کی صورتحال ، جو بڑی حد تک تباہ ہو چکے ہیں ، یقیناً دمشق کے حالات سے مختلف ہے۔

تاہم مجموعی طور پر پورے ملک میں انسانی صورتحال انتہائی مشکل ہے۔ تین سال پہلے آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد تعمیرِ نو کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

ژوہانیٹر انٹرنیشنل اسسٹنس خاص طور پر تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، ہسپتالوں کو ایندھن، پینے کا پانی اور ادویات فراہم کرنے جیسے اہم کاموں میں مدد کر رہی ہے۔

زانڈرا لورینس کے بقول،''ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو غذائی امداد پر انحصار کرتے ہیں اور جنہیں پانی تک دوبارہ رسائی، مناسب رہائش اور آمدنی کے ذرائع بحال کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔

شام میں، دیگر جنگ زدہ خطوں کی طرح حالات وہ نہیں رہے جو 14 سال پہلے تھے۔ میں صرف یہ امید کر سکتی ہوں کہ جو لوگ واپس جا رہے ہیں، انہوں نے حالات کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کر لی ہو، کسی سے بات کی ہو، اور ان کے پاس وہاں جانے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد جگہ یا جاننے والا موجود ہو جس سے وہ ابتدائی مدد لے سکیں۔‘‘

جرمن-شامی امدادی تنظیموں کی ایسوسی ایشن (VDSH) کی نائب صدر ناہلہ عثمان ایک ایسے وفد کا حصہ تھیں جو شام گیا، جس میں GIZ، جرمن وزارتِ اقتصادی تعاون (BMZ) اور ترقیاتی بینک KfW کے نمائندے شامل تھے۔

ان کے مطابق دمشق کے مضافات میں رہنے کے قابل ایک بھی گھر موجود نہیں اور شام میں 80فیصد سے زیادہ اسکول تباہ ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت ہے، اور وزیرِ صحت کے مطابق کچھ ضروری آلات پورے ملک میں صرف ایک یا دو جگہ موجود ہیں۔

جرمنی کی تعمیرِ نو امداد کا ایک اہم ہدف شامی ہسپتالوں کو دوبارہ فعال بنانا ہے، اور اسی سلسلے میں وفد کی موجودگی میں پانچ ہسپتالوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

ناہلہ عثمان کا کہنا ہے کہجرمنی میں شامیوں کی واپسی سے متعلق بحث حقیقت پسندانہ نہیں ۔ ان کے مطابق،''زیادہ تر شامی یہاں ضم ہو چکے ہیں، جرمن زبان بولتے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ وہ واپس جانے کا خواب تو رکھتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں۔‘‘

وہ اس تاثر کو غلط قرار دیتی ہیں کہ ''تمام شامیوں کو واپس جا کر ملک کی دوبارہ تعمیر کا کام کرنا چاہیے۔‘‘ ان کے مطابق یہ ایک ایسے ملک کے لیے مناسب بحث نہیں جو خود کو ہجرت کرنے والوں کا ملک سمجھتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر