۳کم عمر لڑکی کی تبدیلی مذہب اور شادی بارے آئینی عدالت کا حالیہ باعث تشویش ہے، اقلیتی مذہبی و سیاسی رہنماء

بدھ 1 اپریل 2026 19:30

! کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 اپریل2026ء) آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پر اقلیتی مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئٹہ کے بیتھل میموریل میتھوڈسٹ چرچ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سابق ایم پی اے و مرکزی کمیٹی کے رکن ولیم برکت، نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری برائے انسانی حقوق و صدر اقلیتی فورم پاکستان بلوچستان انیل غوری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عظمت انجم، سکھ کمیونٹی کے صدر سردار جسبھیر سنگھ، ہندو پنچائیت کے جوائنٹ سیکرٹری سدیر کمار، شہباز گل، عرفان اسلم، جوئل بیسٹن اور روہیل ارسلان ،پادری سا ئمن بشیر، فادر سیمن شاکر پرکلیم صدیق اور دیگر نے کہا کہ آئینی عدالت کا حالیہ فیصلہ اقلیتی برادری کے مذہبی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کرتا ہے، جو نہ صرف باعثِ تشویش ہے بلکہ آئینِ پاکستان میں دی گئی برابری اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ اقلیتی برادری نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ہر موقع پر ملکی اداروں، بالخصوص عدالتوں کا احترام کیا ہے۔ تاہم حالیہ عدالتی فیصلے نے اقلیتی برادری، خصوصاً مسیحی برادری کو شدید مایوسی سے دوچار کیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو عیدِ ایسٹر کے بعد احتجاجی مظاہرے اور پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حساس اور اہم معاملات میں تمام مکاتبِ فکر، خصوصاً اقلیتی نمائندوں کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے تاکہ فیصلے متوازن، منصفانہ اور قابلِ قبول ہو سکیں۔ ان کے مطابق اسی عمل کے ذریعے معاشرے میں ہم آہنگی، رواداری اور انصاف کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔آخر میں انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور مستقبل میں پالیسی سازی کے عمل میں اقلیتوں کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔