زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے شجرکاری مہم بعنوان نسلوں کے لیے شجرکاری کا آغازکردیا

جمعہ 3 اپریل 2026 14:50

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اپریل2026ء) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے شجرکاری مہم بعنوان نسلوں کے لیے شجرکاری کا آغاز کیا ہے۔یہ مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی جس کا انعقاد ڈیپارٹمنٹ آف فارسٹری اینڈ رینج مینجمنٹ، فیکلٹی آف ایگریکلچر کے ڈین اور پاکستان سوسائٹی آف فارسٹرز نے عالمی یومِ جنگلات کے سلسلے میں کیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اس مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر غلام مرتضیٰ، چیئرمین اینٹومالوجی ڈاکٹر وسیم اکرم، چیئرمین پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس ڈاکٹر عظیم اقبال، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر ڈاکٹر احمد ستار ، چیئرمین فارسٹری ڈاکٹر فہد رشید، ڈائریکٹر فارم ڈاکٹر محمد اسلم، چیئرمین پلانٹ پیتھالوجی ڈاکٹر عبد الرحمن، ڈاکٹر ندیم عباس، ڈاکٹر ندیم اکبر، ڈاکٹر محمد رشید ، ڈاکٹر محمد عرفان، ڈاکٹر ثمر عباس، ڈاکٹر شوکت علی، ڈاکٹر آصف، ڈاکٹر ہارون، جہانزیب طارق اور دیگر بھی موجود تھے زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ شجرکاری محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ یہ ہماری قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ماحول کو محفوظ بنا سکیں۔

(جاری ہے)

موسمیاتی تبدیلیاں کرہ ارض کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات نہ صرف ماحول کو بہتر بنانے کا ضامن ہوتے ہیں بلکہ قومی معیشت کا ایک اہم ستون ہیں۔ غیر یقینی موسمی حالات کے اس دور میں آج لگایا گیا ہر پودا مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک ڈھال ثابت ہوگا۔ زرعی یونیورسٹی کلائمیٹ سمارٹ زرعی طریقوں کو ترویج دینے میں ہراول دستہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔

ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ درختوں کو اپنے کاشتکاری کے نظام کا حصہ بنا کر ہم نہ صرف کسانوں کے لیے معاشی استحکام پیدا کر سکتے ہیں بلکہ بگڑتے ہوئے ماحولیاتی نظام کو بھی بحال کر سکتے ہیںانہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پودے لگائیں کیونکہ ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔۔چیئرمین شعبہ فاریسٹری ڈاکٹر فہد رشید نے کہا کہ جنگلات صرف لکڑی نہیں دیتے بلکہ یہ روزگار اور ماحولیاتی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارا محکمہ مقامی اقسام کے درختوں کی ترویج کے لیے کوشاں ہے تاکہ طویل مدتی ماحولیاتی اور معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔