خوبصورتی کا بڑھتا رجحان، استھیٹکس کلینکس منافع بخش کاروبار بن گئے

جمعرات 9 اپریل 2026 09:20

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اپریل2026ء) ملتان سمیت پاکستان بھر میں استھیٹکس کلینکس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد نے بیوٹی اور اسکن کیئر سیکٹر کو ایک مضبوط اور منافع بخش انڈسٹری میں تبدیل کر دیا ہے۔ اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے استھیٹکس کلینک کی ڈاکٹر قرۃالعین نےبتایا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت بیوٹی اور استھیٹکس مارکیٹ کا حجم تقریباً 15 سے 20 ارب روپے سالانہ تک پہنچ چکا ہے۔

جبکہ اس شعبے میں 25 سے 30 فیصد تک سالانہ شرح نمو ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2020کے بعد پاکستان کے بڑے شہروں میں استھیٹکس کلینکس کی تعداد میں تین گنا تک اضافہ ہوا اور اب یہ رجحان ملتان جیسے ابھرتے شہری مراکز تک بھی پھیل چکا ہے۔ ملتان میں اندازاً 35 سے زائد مستند ڈرماٹولوجسٹس اور درجنوں استھیٹکس کلینکس فعال ہیں، جن میں سے بیشتر نجی سطح پر چلائے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

سماجی رہنما و کاروباری شخصیت شاہد محمود انصاری نے کہا کہ مقامی سطح پر ایک درمیانے درجے کا کلینک روزانہ 20 سے 50 مریضوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ جبکہ مختلف ٹریٹمنٹس کی قیمتیں 3 ہزار سے 50 ہزار روپے فی سیشن تک ہیں۔ بوٹوکس 15 ہزار سے 30 ہزار، فلرز 25 ہزار سے 60 ہزار اور لیزر ٹریٹمنٹس 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک کیے جا رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک کامیاب کلینک ماہانہ 5 سے 10 لاکھ روپے یا اس سے زائد آمدن حاصل کر سکتا ہے۔

ملتان میں اس شعبے سے وابستہ نمایاں ماہرین میں ڈاکٹر سائرہ جبین، ڈاکٹر عطیہ تبسم، ڈاکٹر آمنہ عابد، ڈاکٹر عائشہ خالد، ڈاکٹر محمد فاروق خان اور پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ شامل ہیں، جو نہ صرف جلدی امراض بلکہ کاسمیٹک اور اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹس بھی فراہم کر رہے ہیں۔ وومن چیمبر آف کامرس کی سابقہ صدر و استھیٹکس کلینک کی مالک معصوم سبطین نے کہا کہ اس صنعت کی ترقی میں خواتین کلائنٹس کا کردار سب سے زیادہ ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں مرد حضرات بھی بڑی تعداد میں ان خدمات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، انفلوئنسر کلچر اور فلٹرز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوان نسل کو اپنی ظاہری شخصیت بہتر بنانے کی جانب راغب کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اسکن کیئر اور کاسمیٹک ٹریٹمنٹس کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔تاہم ماہر صحت ڈاکٹر غزالہ مشتاق نے اس تیزی سے پھیلتی ہوئی انڈسٹری میں ریگولیشن کی کمی کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مستند افراد کی جانب سے کلینکس کے قیام اور شارٹ کورسز کے ذریعے سروسز کی فراہمی شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 50 سے زائد ٹریننگ اکیڈمیز بھی کام کر رہی ہیں، جہاں مختصر کورسز کے بعد افراد اس فیلڈ میں داخل ہو رہے ہیں۔معاشی ماہرین سجاد کھوکھر، ساجد بٹ نے کہا کہ اگر اس شعبے کو حکومتی سطح پر مناسب پالیسی، لائسنسنگ اور مانیٹرنگ فراہم کی جائے تو یہ نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ روزگار کے بڑے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

اس انڈسٹری سے ڈاکٹرز، نرسز، ٹیکنیشنز، بیوٹی ایکسپرٹس اور مارکیٹنگ پروفیشنلز سمیت ہزاروں افراد وابستہ ہو رہے ہیں۔ملتان میں استھیٹکس کلینکس کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ خوبصورتی اب صرف ذاتی شوق نہیں رہی بلکہ ایک مضبوط معاشی سرگرمی میں تبدیل ہو چکی ہے، جو مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔