پاکستان کی فارما صنعت ترقی کی نئی بلندیوں کی جانب گامزن

پیر 13 اپریل 2026 10:27

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 اپریل2026ء) پاکستان کا فارماسیوٹیکل شعبہ تیزی سے ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پالیسی اصلاحات، سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان اور ادارہ جاتی تعاون نے اس صنعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر دیا ہے۔ایس آ ئی ایف سی حکام کے مطابق (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسی معاونت اس پیشرفت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق2025 میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری کا مجموعی منافع 78 فیصد اضافے کے ساتھ 42.2 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ صنعت نہ صرف استحکام حاصل کر رہی ہے بلکہ منافع بخش شعبوں میں نمایاں مقام بھی بنا رہی ہے۔ڈی ریگولیشن کے بعد قیمتوں میں بہتری اور پیداواری لاگت میں کمی نے اس ترقی کو مزید تقویت دی۔

(جاری ہے)

انہی عوامل کے باعث 2025 میں فارما سیکٹر کی نیٹ فروخت 14 فیصد بڑھ کر 365.7 ارب روپے تک جا پہنچی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں طلب اور رسد دونوں میں مثبت توازن قائم ہو رہا ہے۔منیجنگ ڈائریکٹر سانتے فارماسیوٹیکل توقیر الحق کے مطابق 2025 فارما انڈسٹری کے لیے ایک شاندار سال ثابت ہوا، جس میں نہ صرف ادویات تک عوام کی رسائی بہتر ہوئی بلکہ مجموعی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا، جو عالمی منڈیوں میں پاکستانی ادویات کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ایس آئی ایف سی کی پالیسی سازی میں معاونت اور (ڈریپ) کے ساتھ انڈسٹری کے مؤثر تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔ڈی ریگولیشن میں ایس آئی ایف سی کی حمایت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں نئی سرمایہ کاری اور برآمدات میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

سازگار کاروباری ماحول اور پالیسی استحکام نے فارما سیکٹر کو ایک پرکشش سرمایہ کاری مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔مجموعی طور پر، پاکستان کی فارما صنعت ایک ایسے مثبت سفر پر گامزن ہے جہاں پائیدار ترقی، برآمدی وسعت اور عوامی فلاح کے اہداف ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ شعبہ مستقبل قریب میں معیشت کا ایک اہم ستون بن سکتا ہے۔