علماء و مشائخ امت کی حقیقی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، پیر ارشد کاظمی

پیر 13 اپریل 2026 18:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اپریل2026ء) تحریک اہلسنّت پاکستان صوبہ سندھ کے صدر پیر سید ارشد علی شاہ کاظمی القادری نے کہا ہے کہ علماء و مشائخ امت کی حقیقی رہنمائی کا فریضہ نہایت اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں اور موجودہ دور کے نازک اور پیچیدہ حالات میں ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی زوال اور بے راہ روی کا شکار ہو تو ایسے میں علماء کرام اور مشائخ عظام ہی وہ واحد طبقہ ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے اور انہیں گمراہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں علماء حق نے باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ کر حق و صداقت کی آواز بلند کی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں جہاں سوشل ذرائع ابلاغ کے ذریعے غلط معلومات اور گمراہ کن نظریات تیزی سے پھیل رہے ہیں وہاں علماء و مشائخ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی درست رہنمائی کریں اور انہیں دین اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ وہ انتہا پسندی، شدت پسندی اور فکری گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔ پیر سید ارشد علی شاہ کاظمی القادری نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں اور اگر انہیں صحیح دینی اور اخلاقی بنیادیں فراہم کی جائیں تو وہ ملک و قوم کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مساجد، مدارس اور خانقاہیں ہمیشہ سے علم و عرفان کے مراکز رہی ہیں اور ان اداروں کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں اصلاح کا عمل مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء و مشائخ کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات، دروس اور بیانات کے ذریعے محبت، اخوت، برداشت اور اتحاد کا پیغام عام کریں تاکہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی نفرتوں اور تقسیم کا خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت، لسانیت اور تعصب جیسے ناسور نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی خطرہ ہیں اس لیے ہمیں ان عناصر کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط بنائیں اور ہر شہری کو بلا امتیاز اس کا حق فراہم کریں کیونکہ انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام الناس کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، قانون کی پاسداری کرنی ہوگی اور معاشرتی اقدار کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ایک مہذب اور مستحکم معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسی خبروں اور مواد سے اجتناب کرنا چاہیے جو معاشرے میں بے چینی، اشتعال یا انتشار کا باعث بنیں بلکہ سچائی، تحقیق اور ذمہ داری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پیر سید ارشد علی شاہ کاظمی القادری نے کہا کہ تحریک اہلسنّت پاکستان ملک میں امن، استحکام اور دینی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر سطح پر حق و صداقت کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں امت مسلمہ کو باہمی اختلافات کو بھلا کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

اس موقع پر انہوں نے بنگلہ دیش کے نئے سال بیساکھی کے پُرمسرت موقع پر اہلِ بنگلہ دیش کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن خوشیوں، ثقافت، روایات اور نئی امیدوں کا پیغام لے کر آتا ہے اور دعا ہے کہ یہ نیا سال سب کے لیے امن، خوشحالی، ترقی اور کامیابیوں کا باعث بنے اور نئی روشنی، خوشیاں اور آسانیاں لے کر آئے، نو برشو مبارک۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان سمیت پورے عالم اسلام کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے اور ہمیں دین اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔