بچوں کو زبردستی پولیو قطرے پلانے کی کوشش، شہریوں کا احتجاج حکام فوری نوٹس لیں

بحریہ ٹائون کراچی میں پولیو ٹیموں کے رویے پر سوالات، شہریوں کا مقف نظر انداز کرنے کا الزام

ہفتہ 18 اپریل 2026 20:35

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2026ء) کراچی میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران بعض پولیو ٹیموں کے رویے سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں، جہاں شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور بچوں کو زبردستی پولیو کے قطرے پلانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔بحریہ ٹائون کراچی کے علاقے P31 سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیو ٹیم کے ارکان گھروں پر آ کر نہ صرف بار بار دروازے کھٹکھٹاتے ہیں بلکہ فوری طور پر بچوں کو پیش کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو پہلے ہی نجی اسپتال میں رجسٹر کروا رکھا ہے اور وہاں سے پولیو ویکسینیشن باقاعدگی سے کروائی جا رہی ہے، تاہم ٹیم کے ارکان ان کی وضاحت سننے کے بجائے اصرار کرتے ہیں کہ قطرے انہی کے ذریعے ہی پلائے جائیں۔

(جاری ہے)

ایک متاثرہ شہری کے مطابق، ٹیم کو یہ بھی پیشکش کی گئی کہ ان کی تسلی کے لیے بچوں کو دوبارہ اسپتال سے ویکسین کروایا جا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود بعض ارکان نے نامناسب رویہ اختیار کیا۔

شہریوں نے دعوی کیا کہ ٹیم میں شامل ایک فرد نے معاملہ سمجھنے کی کوشش کی، تاہم ایک اور شخص مسلسل بدتمیزی کرتا رہا اور بلند آواز میں گفتگو کرتا رہا۔شہریوں کے مطابق ٹیم کے ہمراہ موجود مختیارکار بھی صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے خاموش تماشائی بنا رہا، جس سے شہریوں میں مزید بے چینی پیدا ہوئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ٹیم میں ایسا کوئی فرد دکھائی نہیں دیا جس سے سنجیدگی اور مہذب انداز میں بات کر کے مسئلہ حل کیا جا سکتا۔

شہریوں نے واضح کیا کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے، تاہم اس عمل کے دوران شہریوں کے ساتھ سخت رویہ اور زبردستی ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیو ٹیموں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ وہ شہریوں کے مقف کو سنے اور پہلے سے ویکسین شدہ بچوں کے معاملے میں لچک اختیار کریں۔