Live Updates

خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران میں "قائدِ شہیدِ امتِ مسلمہ" کی یاد میں کثیر اللسانی محفلِ مشاعرہ منعقد، مختلف اقوام کے شعراء اور سیاسی و ادبی شخصیات کی شرکت، امتِ مسلمہ کی یکجہتی اور استکبار کے خلاف مزاحمت پر زور

پیر 27 اپریل 2026 21:10

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اپریل2026ء) خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کوئٹہ کے زیرِ اہتمام "فراقِ قائد، خروشِ غیرت؛ شبِ شعرِ ہمبستگیِ امت خلافِ استکبار" کے عنوان سے ایک کثیر اللسانی محفلِ مشاعرہ منعقد ہوئی جس میں بلوچستان کی مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے شعراء ، ادبائ ، سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی اور "قائدِ شہیدِ امتِ اسلامی" حضرت امام خامنہ ای (رہ) کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کوئٹہ کے سربراہ و ثقافتی وابستہ سید ابوالحسن میری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ پلیٹ فارم امتِ مسلمہ کی وحدت کا مظہر ہے، جہاں "خونِ قلم" اور "خونِ شہید" کا رشتہ نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زبانوں اور قومیتوں کے شعراء کی مشترکہ شرکت دشمنانِ امت کے لیے واضح پیغام ہے کہ تمام اقوام "مظلوم کی حمایت اور استکبار کے خلاف مزاحمت" پر متحد ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ قائدِ شہید کے افکار تمام اقوام میں زندہ ہیں اور ان کی جدوجہد استقامت کی علامت ہے۔انہوں نے موجودہ حالات میں "جہادِ تبیین" کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ مزاحمتی شاعری کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔سابق سینیٹر رحمت اللہ کاکر نے اپنے خطاب میں ایرانی قوم کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کو استکبار کے خلاف بیداری کا سبق ایران سے لینا چاہیے اور اس نوعیت کے پروگرام ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے ضروری ہیں۔

انجمن دبستانِ بولان کے سربراہ پروفیسر صدف چنگیزی نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات کو واقعہ کربلا کے تسلسل سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے طویل محاصرے کے باوجود باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔مشاعرے کے دوسرے حصے میں مختلف زبانوں کے شعراء نے کلام پیش کیا۔ اردو شعراء میں سجاد حیدر، ڈاکٹر اکرم خاور، نرگس ندیم، حمیدہ شاہد، تسنیم صنم، غلام علی جون، شفقت عاصمی کمبوہ، جہانگیر کاوش، ملک ریاض اور رشید حسرت شامل تھے۔

بلوچی میں ظہور زیبی اور نور خان نواب، پشتو میں حفیظ اللہ یاد، عادل اچکزئی، محمد نسیم ایثار اور نیاز خلجی، براہوی میں نصیر احمد گل جی، عجب خان سائل اور پروفیسر اکبر علی ساسولی نے کلام پیش کیا۔ فارسی و ہزارگی میں جرات علی رضی، پروفیسر صدف چنگیزی اور ڈاکٹر علی کمیل قزلباش جبکہ پنجابی میں صدف غوری اور بلتی میں صادق علی بلتستانی نے اپنے اشعار پیش کیے۔تقریب کے اختتام پر خانہ فرہنگ ایران کی جانب سے تمام شعراء میں لوحِ سپاس تقسیم کی گئی ۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات