Live Updates

ایران کی تنصیبات پر حملے سے پورے خطے میں ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، سردار مسعود خان

امریکہ، ایران فوجی تیاریوں اور سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں پاکستان مسلسل محتاط اور تعمیری سفارتی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان قابل اعتماد سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، سابق صدر آزاد کشمیر

جمعہ 1 مئی 2026 14:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 مئی2026ء) امریکہ، چین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نہایت خطرناک اور غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ جمعہ کے روز اپنے ایک اخباری بیان انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ اور ایران دونوں عسکری تیاریوں اور سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھا رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فریقین دوہری حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ ایک طرف دباؤ ڈالنے کی کوشش جر رہے ہیں اور دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے کی کوششوں سے بھی دستبردار نہیں ہوئے۔

(جاری ہے)

سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلسل، محتاط اور تعمیری سفارتی کوششوں سے اور دونوں فریقوں کے درمیان قابلِ اعتبار پل کے طور کام کر رہا ہے جو گہری بداعتمادی کو کم کر سکتا ہے۔

حالیہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی عسکری تیاری، جس میں طیارہ بردار جہازوں اور بحری افواج کی تعیناتی شامل ہے، مکمل جنگ چھیڑنے کے بجائے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بظاہر براہِ راست جنگ کے بجائے اپنی عسکری برتری کو مذاکرات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے مسلسل حملوں اور قیادت کے نقصانات کے باوجود اپنی مزاحمت برقرار رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا غیر مرکزی کمانڈ ڈھانچہ اور اسٹریٹجک گہرائی اسے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں مدد دے رہی ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندر اہم تنصیبات کی حفاظت اور معیشت کے حوالے سے کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔سردار مسعود خان نے متنبہ کیا کہ اگر ایران کے اثاثوں پر حملے کیے گئے تو اس کے نتیجے میں خطے میں وسیع ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس میں خلیجی توانائی تنصیبات، سمندری راستوں اور عالمی تجارتی جہاز رانی کو خطرات سر فہرست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں جہاز اور ملاح اس وقت پھنسے ہوئے ہیں، جو ایک ابھرتے ہوئے انسانی اور معاشی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔وسیع تر جغرافیائی سیاسی اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیاں، بشمول توانائی اور اسٹاک مارکیٹس، پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث تمام فریقین پر کشیدگی کم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے علاقائی اتحادوں میں تبدیلی اور مسلم دنیا کے اندر ممکنہ تقسیم کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔

سفارتی عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کم از کم مشترکہ نکات جس میں بیک وقت ناکہ بندی میں نرمی، مرحلہ وار پابندیوں میں کمی، اور جوہری پروگرام جیسے متنازع امور کو باقاعدہ مذاکرات کے لیے مؤخر کرنے سے پیشرفت ہو سکتی ہے۔آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی فریق حتمی جیت اور ہار کے نتیجے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ موجودہ صورتحال سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لئے فریقین فوری اور مربوط اقدامات کرنے اور بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات