ایران کی تنصیبات پر حملے سے پورے خطے میں ردعمل پیدا ہو سکتا ہے، سردار مسعود خان
امریکہ، ایران فوجی تیاریوں اور سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں پاکستان مسلسل محتاط اور تعمیری سفارتی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان قابل اعتماد سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، سابق صدر آزاد کشمیر
جمعہ 1 مئی 2026 14:25
(جاری ہے)
سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلسل، محتاط اور تعمیری سفارتی کوششوں سے اور دونوں فریقوں کے درمیان قابلِ اعتبار پل کے طور کام کر رہا ہے جو گہری بداعتمادی کو کم کر سکتا ہے۔
حالیہ پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی عسکری تیاری، جس میں طیارہ بردار جہازوں اور بحری افواج کی تعیناتی شامل ہے، مکمل جنگ چھیڑنے کے بجائے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بظاہر براہِ راست جنگ کے بجائے اپنی عسکری برتری کو مذاکرات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے مسلسل حملوں اور قیادت کے نقصانات کے باوجود اپنی مزاحمت برقرار رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کا غیر مرکزی کمانڈ ڈھانچہ اور اسٹریٹجک گہرائی اسے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں مدد دے رہی ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندر اہم تنصیبات کی حفاظت اور معیشت کے حوالے سے کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔سردار مسعود خان نے متنبہ کیا کہ اگر ایران کے اثاثوں پر حملے کیے گئے تو اس کے نتیجے میں خطے میں وسیع ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس میں خلیجی توانائی تنصیبات، سمندری راستوں اور عالمی تجارتی جہاز رانی کو خطرات سر فہرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں جہاز اور ملاح اس وقت پھنسے ہوئے ہیں، جو ایک ابھرتے ہوئے انسانی اور معاشی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔وسیع تر جغرافیائی سیاسی اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیاں، بشمول توانائی اور اسٹاک مارکیٹس، پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث تمام فریقین پر کشیدگی کم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے علاقائی اتحادوں میں تبدیلی اور مسلم دنیا کے اندر ممکنہ تقسیم کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔سفارتی عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کم از کم مشترکہ نکات جس میں بیک وقت ناکہ بندی میں نرمی، مرحلہ وار پابندیوں میں کمی، اور جوہری پروگرام جیسے متنازع امور کو باقاعدہ مذاکرات کے لیے مؤخر کرنے سے پیشرفت ہو سکتی ہے۔آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی بھی فریق حتمی جیت اور ہار کے نتیجے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ موجودہ صورتحال سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لئے فریقین فوری اور مربوط اقدامات کرنے اور بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔مزید کشمیر کی خبریں
-
چیئرپرسن بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا بی آئی ایس پی تحصیل آفس پٹہکہ نصیرآباد کا دورہ
-
تامل ناڈوJ فیکٹری میںزور داردھماکہ ،23 مزدورہلاک
-
HBL PSL کے 11ویں ایڈیشن میں آزاد جموں و کشمیر کی کرکٹ ٹیم کو بھی شامل کیا جائے،شرافت علی خلجی
-
بھارت میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بڑھتے ہوئے خطرات اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے، عالمی جریدے نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کردیا
-
ایس سی او پاکستان میں 5G ٹیکنالوجی متعارف کرانے والا پہلا ادارہ بن گیا
-
کینیڈا: بھارتی نژاد خاتون نینسی گریوال کو چھرا گھونپ کر قتل کردیا گیا
-
بدنام زمانہ منشیات فروش عبدالقیوم عرف پھسو ساکن بھروٹ گالہ تحصیل کھوئیرٹہ کو گرفتار کر لیاگیا
-
کھوئی رٹہ میں انتظامیہ سو گئی ، سلنڈر کی قیمت3800سی3900کر دی گئی
-
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ،وفاقی وزرا انجینئر امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل کی صدر اے جے کے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کے گھر آمد، اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا
-
وادی کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے
-
چناری،ضلع جہلم ویلی میں برف باری کا دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
-
محترمہ فریال تالپور کی صاحبزادی عائشہ تالپور کی شادی کی تقریبات خوش اسلوبی سے جاری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.