وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اپریل 2026میں مہنگائی میں 2.48فیصد کے بڑے اضافے کیساتھ سالانہ بنیادوں پر شرح 10.89فیصد تک پہنچ گئی سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30فیصد تک بڑھ گئے، ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7.63فیصد تک اضافہ ہوا ہے،رپورٹ

جمعہ 1 مئی 2026 22:45

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 مئی2026ء) وفاقی وزارت خزانہ کے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے تخمینے غلط ثابت ہوگئے ہیں جہاں سالانہ بنیاد پر اپریل میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ کے ساتھ 10.89فیصد اور مہنگائی کی سالانہ شرح 21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی وزارت خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور اپریل 2026میں مہنگائی میں 2.48فیصد کے بڑے اضافے کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی شرح 10.89فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے ایک روز قبل جاری کردہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں حکومت نے اپریل میں مہنگائی 8سے 9فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30فیصد تک بڑھ گئے، ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7.63فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیا 10.20فیصد، ایک سال میں ہاسنگ، پانی، بجلی اور گیس 16.84فیصد، کپڑے اور جوتے سالانہ بنیاد پر 6.20فیصد مہنگے ہوگئے ہیں اور سالانہ بنیاد پر ہوٹل ریسٹورنٹ چارجز میں 5.28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

(جاری ہے)

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح 21ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اپریل میں ٹماٹر کی قیمت میں 57فیصد سے زیادہ، سبزیوں کی قیمتیں 40فیصد تک بڑھ گئیں، انڈے 14فیصد، پیاز 9فیصد اور آلو 4فیصد مہنگے ہوئے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح چکن اور گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، چاول، دال ماش اور بیکری آئٹمز بھی مہنگے ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق گندم کی قیمت میں 9فیصد کمی ہوئی، آٹے کی قیمت میں تقریباً 5فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مچھلی، تازہ پھل اور چینی سستی ہوئی، بیسن، دالیں اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔علاوہ ازیں مختلف ذاتی استعمال کی اشیا اور قالین سستے ہو گئے ہیں جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 38 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ سروسز 27فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد مہنگی ہوئیں، کرایوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔