Live Updates

مجھے نہیں لگتا نئی ایرانی تجاویز امریکہ کیلئے قابلِ قبول ہوں گی، دوبارہ حملے کرسکتے ہیں، ٹرمپ

ایرانیوں کو خود یہ علم نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے، کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ ان کے درمیان ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے، ہ جلد ہی ایرانی تجویز کے اصل متن کا جائزہ لیں گے؛ امریکی صدر کا بیان

Sajid Ali ساجد علی اتوار 3 مئی 2026 10:56

مجھے نہیں لگتا نئی ایرانی تجاویز امریکہ کیلئے قابلِ قبول ہوں گی، دوبارہ ..
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے سخت گیر مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر فوجی کارروائی کا اشارہ دے دیا۔ اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات بدستور موجود ہیں، ایران نے اپنی حالیہ اشتعال انگیزیوں کی اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی جتنی اسے کرنی چاہیئے تھی، مجھے ایران کی جانب سے ایک نئی ڈیل کی تجویز کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم میں اس کے نتائج سے زیادہ پرامید نہیں ہوں۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ایرانی تجویز کے اصل متن کا جائزہ لیں گے لیکن فی الحال انہیں نہیں لگتا کہ یہ تجاویز امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہوں گی، امریکہ کی ایران کے ساتھ مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، تاہم ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہرگز نہیں دیکھنا چاہتے، اس موقع پر صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو حیران کن طور پر "انتہائی دوستانہ" قرار دیا۔

(جاری ہے)

میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو "کنفیوزڈ" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران کے اقتدار کے ایوانوں میں اتحاد کی کمی ہے، ایرانیوں کو خود یہ علم نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے، کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ ان کے درمیان ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔ ایران کے علاوہ صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک سے متعلق بھی ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’امریکہ، جرمنی سے اپنے 5 ہزار سے زائد فوجی اہلکار نکال رہا ہے، اور یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے‘، انہوں نے سپین اور اٹلی کے حوالے سے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ وہ اپنے ان اتحادیوں کے رویوں سے خوش نہیں ہیں۔                               
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات