بھار تی نصاب کو ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کا سلسلہ جاری،گجرات یونیورسٹی کا نیا کورس متعارف

اتوار 3 مئی 2026 14:22

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 مئی2026ء) بھارت میں دیگر اداروں کی طرح تعلیمی نصاب کو بھی ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ریاست گجرات میں مہاراجہ سیاجی رائو یونیورسٹی (ایم ایس یو) نے” مودی تتو“نامی ایک نیاکورس متعارف کرایا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس کورس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو ایک نظریہ اور تصور کے طور پر پڑھایا جائے گا جبکہ سودیشی تعلیمی نظام، ہندو مذہب کا مطالعہ اور قوم پرستی کو تین اہم کورسز میں شامل کیا گیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ یہ مضامین اب بی اے سماجیات کے چوتھے سال کے 10 پرچوں اور دو سالہ ایم اے سماجیات پروگرام کے پہلے سال کا حصہ ہوں گے۔”سوشیالوجی آف بھارت“،”ہندو سوشیالوجی“اور”سوشیالوجی آف پیٹریاٹزم‘ ‘نامی یہ ماڈیول چارچار کریڈٹ کے کورسز ہیں جو جون سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سیشن میں نصاب کا حصہ ہوں گے۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی کے مطابق اس کا مقصدتعلیمی ڈھانچے کو بھارت کی تہذیبی اورعلمی روایت، موجودہ طرز حکمرانی اور معاشرتی حقیقتوں سے جوڑنا ہے۔ نصاب تیارکرنے والے شعبہ سماجیات کے سربراہ ڈاکٹر ویریندر سنگھ نے بتایا کہ ’مودی تتو‘ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا مطالعہ ہے جو جرمن ماہرِ سماجیات میکس ویبر کے’کرشماتی اقتدار‘کے نظریے پر مبنی ہے۔راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو نصاب میں شامل کرنے کے بارے میں سوال پر ڈاکٹرسنگھ نے کہا کہ کورس میں آر ایس ایس کو صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زمینی تنظیم، سماجی رسائی اور مکالمے کے ماڈل کے طور پر پڑھایا جائے گا۔