پاکستان امن کونسل کاحکومت سے تعلیمی اداروں میں قرآن کا ترجمعہ پڑھنا نافذ کرنے کا مطالبہ

قرآن کریم تلاوت کیساتھ ترجمہ سے سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عبادت ہے،علمائے کرام عوام کی قران کریم سمجھ کر پڑھنے کی ذہن سازی کریں،مولانا زاہدالراشدی

اتوار 3 مئی 2026 16:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم عالی نے گذشتہ روز مقامی لان میں پاکستان شریعت کونسل سندھ کے زیر اہتمام تقریب آسان ترجمتہ القرآن و علما کنونشن سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا افضل ہے تاہم قرآن کریم تلاوت کے ساتھ ترجمہ سے سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عبادت ہے اس سلسلے میں علمائے کرام و آئمہ مساجد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے آپ کو چاہئے کہ منبر و محراب سے سمیت دیگر دینی اجتماعات میں عوام الناس کی ذہن سازی بار بار کرتے رہیں اور ایک گھنٹہ آدھ گھنٹہ خطاب کے بعد آخر میں صرف ایک یا دو منٹ یہ ضرور بیان کریں کہ قرآن کریم کو تلاوت کرتے وقت اسے ترجمے کے ساتھ پڑھنا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے ذریعے کیا پیغام و احکامات بھیجیں ہیں انہوں نے کہا کہ بڑی دکھ اور تکلیف دہ بات یے کہ علمائے کرام قرآن کریم کی بعض تقاریب میں عوام کو تو کہتے رہتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے رہتے ہیں کہ آپ قرآن کریم کو سمجھ کر نہیں پڑھتے لیکن آئمہ مساجد پر اس بات کا زور نہیں دیتے کہ وہ اپنی مساجد کے منبرو محراب سے ایک یا دومنٹ اپنے بیان کے آخر میں عوام الناس کی ذہن سازی کیوں نہیں کرتے جو آپ کی اہم ذمہ داری میں شامل ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ ہم پانچ وقت کی نماز میں اللہ پاک سے ہم کلام ہوتے ہیں باتیں کرتے ہیں لیکن ہم نہ اپنی بات کا مطلب سمجھتے ہیں نا اللہ کی بات کا مطلب سمجھتے ہیں ہم اللہ سے کیا کہہ رہے ہیں نہ یہ ہم کو پتہ چلتا ہے اور اللہ ہمیں کیا جواب دیتے ہیں نا اس کا ہمیں پتہ ہے یہ نہایت ہی افسوس اور دکھ کی بات ہے جبکہ اللہ تعالی قرآن کریم میں جگہ جگہ ہم سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے قرآن کریم کو آسان کرکے بھیجا ہے تاکہ تم سمجھ سکو لیکن ہم سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے مولانا زاہدالراشدی دامت برکاتہم عالی نے مزید یہ بھی کہا کہ تمام سامعین آئمہ مساجد و علمائے کرام یہاں سے یہ عزم لے کر جائیں کہ ہم آئندہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مساجد کے منبرو محراب اور دینی اجتماعات سے جب بھی عوام الناس سے مخاطب ہوں تو اپنی تقاریر کے آخر میں عوام کی بار بار یہ ذہن سازی کرتے رہیں گیی کہ عوام الناس جب بھی قرآن کریم کی تلاوت کریں تو اس کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں قرآن کی قریب و علما کنونشن کی صدارت مولانا تنویر الحق تھانوی نی کی تقریب سے آسان ترجمتہ القرآن کے مصنف سینیٹر ڈاکٹر عبدالحسیب خان تقریب کے داعی قاری اللہ داد، مولانا اقبال اللہ، مولانا حضرت ولی، حضرت مولانا عبدالماجد فاروقی، مولانا رضوان قاسمی مولانا سید اکرم الرحمن، مولانا ڈاکٹر نصیرالدین، مذہبی و سماجی راہنما محمد سلیم میمن، مولانا محمد اکرم، مولانا محمد عمر، مولانا محمد احمد، قاری محمد اسماعیل، مولانا عبدالواحد ملکانی، قاری محمد عمر و دیگر نے خطاب کیا جبکہ ممتاز و جید علمائے کرام خصوصا استادالقرا قاری نذیر احمد مالکی، مولانا عبدالرزاق ہزاروی، مفتی محمد عدنان مدنی، مفتی محمد ظفر اقبال، مولانا عبدالقیوم نعمانی، مولانا سیف اللہ ربانی، قاری محمد عثمان، مولانا قاضی منیب الرحمن، احمدعلی، مولانا عبدالحکیم، قاری اسلام الدین، قاری محمد شریف، قاری محمد صدیق، مولانا عکاشہ فاروقی، حافظ محمد اسامہ نقشبندی، سماجی راہنما محمد اسلم فاروقی، قاری محمد شاہد عمر، مولانا رفیق عباسی، مولانا محمد عاشق نقشبندی، قاری سعیدالرحمن، مذہبی و سماجی راہنما حاجی نذیر احمد، رانا محمد ناصر، قاری سعیدالرحمن، محمد جاوید اقبال، مولانا محمد عمر میئو، مولانا عبدالحمید راجپوت سمیت بڑی تعداد میں علمائے کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی اس موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان سرکاری و غیرسرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کو آسان ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کے احکامات جاری کرے۔