کورنگی یوسی 8 میں ترقیاتی کام کا بھانڈا پھوٹ گیا، چندگھنٹوں میں پیور بلاکس زمین بوس

پیر 4 مئی 2026 14:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) کراچی کے علاقے کورنگی میں ترقیاتی کاموں کے نام پر عوامی فنڈز کی بندر بانٹ اور مبینہ کرپشن کا ایسا شاہکار سامنے آیا ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے۔ یونین کمیٹی 8 میں لاکھوں روپے کی لاگت سے بچھائے گئے پیور بلاکس چند گھنٹے بھی بوجھ برداشت نہ کر سکے اور نو تعمیر شدہ سڑک کسی 'کاغذی کشتی' کی طرح زمین بوس ہو گئی، جس سے نہ صرف انتظامیہ کے بلند بانگ دعوں کی قلعی کھل گئی ہے بلکہ ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام کا گٹھ جوڑ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔

کراچی کے علاقے کورنگی ٹان کی یونین کمیٹی 8 میں ترقیاتی کاموں کے نام پر مبینہ بدعنوانی اور عوامی فنڈز کے زیاں کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ یوسی 8 کے وارڈ نمبر 1، روڈ نمبر 2 پر لاکھوں روپے کی لاگت سے بچھائے گئے پیور بلاکس چند گھنٹے بھی بوجھ برداشت نہ کر سکے اور پوری سڑک زمین بوس ہو گئی۔

(جاری ہے)

سڑک کے بیچوں بیچ گہرا گڑھا پڑنے سے نہ صرف آمد و رفت معطل ہو گئی بلکہ ٹھیکیدار اورانتظامیہ کی ملی بھگت کا پول بھی کھل گیا۔

علاقہ مکینوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے کہاکہ متعلقہ سڑک کا کام حال ہی میں مکمل کیا گیا تھا، مگر محض 8 گھنٹے گزرنے کے بعد ہی سڑک کا بیٹھ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ میٹریل میں بڑے پیمانے پرخرد برد کی گئی ہے۔ مکینوں کے مطابق ''ترقیاتی کام کے نام پر صرف کھانا پوری کی گئی،جس نے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یونین کمیٹی 8 کو ''ماڈل یوسی'' کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم اس حالیہ واقعے نے انتظامی دعوں کی قلعی کھول دی ہے۔ یوسی چیئرمین احمد رضا کے حوالے سے مقامی سطح پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دیگر بلدیاتی نمائندوں نے بھی فنڈز کی تقسیم اور کام کی نگرانی کے طریقہ کار پر سخت تحفظات کا اظہار کیاہے۔شہری حلقوں اور علاقہ مکینوں نے وزیر اعلی سندھ، وزیر بلدیات اور میئر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ''غضب کرپشن'' کا فوری نوٹس لیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کے ٹیکنیکل آڈٹ کے ساتھ ساتھ ذمہ دار ٹھیکیدار اور متعلقہ انجینئرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔اور متاثرہ سڑک کو فوری طور پر معیاری میٹریل کے ساتھ دوبارہ تعمیر کیا جائے تاکہ عوامی ٹیکس کے پیسے کا مزید ضیاع روکا جا سکے۔