’’معرکہ حق ‘‘میں پاک فضائیہ نے بروقت فیصلوں کے ذریعے دشمن کی عددی برتری کو غیر موثر بنا دیا،عاصم سلیمان

پیر 4 مئی 2026 21:03

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 مئی2026ء) ’’معرکہ حق ‘‘کے ایک سال مکمل ہونے پر ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے کہا ہے کہ یہ معرکہ جدید فضائی جنگ کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا جس میں پاک فضائیہ نے اعلیٰ حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے دشمن کی عددی برتری کو غیر موثر بنا دیا۔’’ اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ معرکہ حق ‘‘کی کامیابی کا بنیادی سبب تیز رفتار فیصلہ سازی، جدید سینسرز اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا مؤثر استعمال تھا جس کے باعث پاک فضائیہ نے نہایت کم وقت میں فیصلہ کن برتری حاصل کی۔

ایئر مارشل (ر) عاصم سلیمان کا کہنا ہے کہ J-10 C اور JF -17 Thunder طیاروں کے ساتھ PL-15 میزائل کے استعمال سے ’’فرسٹ لک، فرسٹ شوٹ‘‘ کی برتری حاصل کی گئی جبکہ HQ-9B دفاعی نظام نے فضائی حدود کا مضبوط تحفظ یقینی بنایا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس معرکے کی خاص بات فضائی، زمینی اور سائبر صلاحیتوں کا مربوط انضمام تھا جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ نے چند ہی منٹوں میں مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل دے کر دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید ہتھیاروں اور سائبر صلاحیتوں کے امتزاج نے اس آپریشن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر حکمت عملی، پیشگی منصوبہ بندی اور مکمل تیاری کے باعث پاک فضائیہ ہر مرحلے پر برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔