اسرائیل میں عیسائیوں کیخلاف بھی عدم برداشت میں اضافہ

رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں عیسائیوں کے خلاف 31 واقعات رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 5 مئی 2026 17:36

اسرائیل میں عیسائیوں کیخلاف بھی عدم برداشت میں اضافہ
مقبوضہ بیت المقدس(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 مئی ۔2026 ) مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں ایک فرانسیسی راہبہ پر حالیہ حملہ عیسائی برادری کے لیے کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تشدد کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل میں مقیم عیسائیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہمارے خلاف ہراسانی، حملوں اور توہین آمیز رویوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے.

(جاری ہے)

رپورٹ میں شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں عیسائیوں کے خلاف 31 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ سال 113 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں زیادہ تر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، روزمرہ کی بنیاد پر تھوکنا، گالیاں دینا اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں. عرب میڈیا کے مطابق متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پولیس پر اعتماد نہ ہونے کے باعث کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور قوم پرستانہ رجحان اس صورتِ حال کی بڑی وجہ ہے، خاص طور پر شدت پسند مذہبی اور آبادکار گروہوں کو ان واقعات میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے.

رپورٹ میں عیسائی عرب فلسطینیوں کی جائیدادوں پر آبادکاروں کے قبضے‘انہیں وراثتی جائیدادوں سے بے دخل کرنا‘عبادت گاہوں کی مسماری‘امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے سرزمین مقدس پر جاکر آباد ہونے والے عیسائی راہبوں کے ساتھ اسرائیلی فوج اور اہلکاروں کا ہتک آمیزسلوک‘لبنان اور خطے کے دیگر علاقوں میں عیسائیوں کی تاریخی عبادت گاہوں کو ہدف بنانے پر بھی اسرائیلی فوج اور حکومت پر کڑی تنقید کی گئی ہے.