وزیراعظم کی مستقبل میں توا نائی ضروریات قابل تجدید توانائی سے پوری کرنے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ہدایت

منگل 5 مئی 2026 20:20

وزیراعظم کی مستقبل میں توا نائی ضروریات قابل تجدید توانائی سے پوری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) وزیراعظم شہباز شریف نے مستقبل میں توا نائی ضروریات قابل تجدید توانائی سے پوری کرنے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوری میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی،اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کرنیوالی تقسیم کار کمپنیوں کیخلاف محکمانہ کاروائی یقینی بنائی جائے،نجی شعبے کو ویلنگ نظام کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی پر کام تیز کیا جائے ۔

منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر (شعبہ توانائی) سے متعلقہ اصلاحاتی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میںوفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے پاور ڈیویڑن سردار اویس لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلٰی افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کی ترسیلی کمپنیوں میں بجلی چوری، عدم ادائیگی اور دیگر نقصانات کو پچھلے سال کی نسبت موثر اقدامات کے بعد بہت حد تک کم کیا جا چکا ہے، بجلی کے ترسیلی نظام کے نقصانات جون 2024 میں 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ 2026 میں 15.3 فیصد تک آ چکے ہیں، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بجلی کے بلوں کی وصولی میں بہتری آئی ہے، جو کہ جون 2024 میں 90 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 96.46 فیصد ہو چکی ہیں ، بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے کام جاری ہے اور اس سال نومبر میں بولی کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نقصان میں چلنے والے 2500 فیڈرز پر سمارٹ میٹرز لگائے جا چکے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مستقبل میں توا نائی کی ضروریات قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے، پن بجلی ، شمسی توانائی اور بائیو گیس سمیت دیگر قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار سے پیداواری لاگت میں مزید کمی ہو گی اور معیشت کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے اقدامات میں تیزی لائی جائے ، بجلی چوری کے واقعات میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں بجلی کی جن تقسیم کار کمپنیوں نے اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمر پر سمارٹ میٹر نصب کرنے کے منصوبے کے نفاذ میں تیزی لائی جائے،ملک میں بجلی کے مسابقتی مارکیٹ کو فروغ دینے کیلئے اقدامات تیز کئے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نجی شعبے کو ویلنگ کے نظام کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی پر کام تیز کیا جائے ۔