معاشرے میں انسانیت کی ایک روشن مثال،سماجی شخصیت نے لاوارث بچے کوگود لے لیا

والدہ کے انتقال اور والد کی دوسری شادی کے بعدگیارہ سالہ ریحان گزشتہ چھ برسوں سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھا

منگل 5 مئی 2026 21:05

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) معاشرے میں انسانیت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی ایک روشن مثال قائم کرتے ہوئے معروف سماجی شخصیت رحیم بخش نے ایک لاوارث بچے کو گود لے لیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں اور شہریوں نے نہایت مثبت قرار دیتے ہوئے اسے معاشرے کے لیے ایک امید افزا قدم قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گیارہ سالہ ریحان گزشتہ چھ برسوں سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھا۔ اس کی زندگی اس وقت مشکلات کا شکار ہوئی جب اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ بعد ازاں اس کے والد نے دوسری شادی کرلی، جس کے بعد ریحان مناسب توجہ اور سہارا نہ ملنے کے باعث عملی طور پر بے سہارا ہوگیا اور مختلف مقامات پر وقت گزارنے پر مجبور رہا۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق ریحان کو بنیادی سہولیات، تعلیم اور مناسب دیکھ بھال سے محروم رہنا پڑا، جس نے اس کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔

تاہم حال ہی میں سماجی کارکن رحیم بخش کی نظر اس بچے کی حالت زار پر پڑی، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر اسے اپنی سرپرستی میں لینے کا فیصلہ کیا۔رحیم بخش نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ مستقبل، تعلیم اور محبت بھرا ماحول فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ریحان اب میرے اپنے بچوں کی طرح ہے اور میں اس کی تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے ہر ممکن اقدامات کروں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے مخیر حضرات اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے بچوں کی کفالت میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ کوئی بھی بچہ بے سہارا نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق ایک بچے کی ذمہ داری لے لے تو معاشرے میں بے شمار زندگیاں سنور سکتی ہیں۔سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف ایک بچے کی زندگی بدلنے کا سبب بنے گا بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں احساسِ ذمہ داری اور انسان دوستی کو فروغ دیتے ہیں۔شہریوں نے بھی سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر رحیم بخش کے اس قدم کو بھرپور انداز میں سراہا ہے اور اسے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا ہے۔ کئی افراد نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے گی اور مزید لوگ بھی آگے بڑھ کر ضرورت مند بچوں کی مدد کریں گے۔

ماہرینِ سماجیات کے مطابق لاوارث اور بے سہارا بچوں کی بحالی کے لیے ایسے انفرادی اقدامات نہایت اہمیت رکھتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر بھی مؤثر حکمت عملی اور پالیسی سازی کی ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کو مستقل بنیادوں پر سہارا فراہم کیا جا سکے۔واضح رہے کہ پاکستان میں بے سہارا بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ ایسے میں رحیم بخش جیسے افراد کے اقدامات معاشرے میں امید کی کرن ثابت ہو رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔