صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت سندھ فوڈ اتھارٹی کا 12واں اہم اجلاس

سندھ فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ کارروائیوں کے لیے 30 نئی یوٹیلٹی وینز خریدنے کی تجویز، معاملہ صوبائی کابینہ کی کفایت شعاری کمیٹی کو بھیجنے کی منظوری

منگل 5 مئی 2026 21:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت سندھ فوڈ اتھارٹی کا 12واں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ فوڈ اتھارٹی کے انتظامی، قانونی اور آپریشنل امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سندھ اسمبلی کے اراکین فیاض علی بٹ، بیرسٹر ہالار وسان اور سعدیہ جاوید نے شرکت کی، جبکہ سیکریٹری خوراک، ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی، فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین، فوڈ آپریٹرز، فوڈ انڈسٹریز اور صارفین کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی، صوبے بھر میں جاری فیلڈ کارروائیوں، فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد، ادارے کی استعداد کار، قانونی ترامیم، لائسنس فیس اسٹرکچر، فوڈ پروڈکٹ رجسٹریشن، ٹریک اینڈ ٹریس نظام اور ضلعی سطح پر انسپیکشن کے عمل کو مزید مثر بنانے سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ کارروائیوں کو مزید مثر بنانے کے لیے 30 نئی یوٹیلٹی وینز خریدنے کی تجویز پیش کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ فیلڈ ٹیموں کو انسپیکشن، سیمپلنگ، چھاپوں اور فوری کارروائیوں کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں بورڈ نے گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ صوبائی کابینہ کی کفایت شعاری کمیٹی کو بھیجنے کی منظوری دی تاکہ تمام متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت اس معاملے پر مزید کارروائی کی جا سکے۔

اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 میں مجوزہ ترامیم کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مجوزہ ترامیم کا مقصد اتھارٹی کے قانونی اختیارات کو مزید واضح کرنا، فوڈ سیفٹی کے نظام کو مضبوط بنانا، فیلڈ افسران کو مثر قانونی سہارا فراہم کرنا اور عوام کو غیر محفوظ خوراک سے بچانے کے لیے کارروائیوں کو تیز اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔ اجلاس میں ملاوٹ شدہ اور غیر محفوظ خوراک کی تلفی کے قانونی اختیار کو مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا تاکہ مضر صحت اور غیر معیاری اشیائے خورونوش کو فوری طور پر مارکیٹ سے ہٹایا جا سکے۔

اجلاس میں فوڈ پروڈکٹ رجسٹریشن اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو مثر بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ اجلاس میں اس حوالے سے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو فوڈ پروڈکٹ رجسٹریشن، ٹریک اینڈ ٹریس نظام، قانونی تقاضوں، عملی طریقہ کار اور فوڈ سپلائی چین کی نگرانی کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے خوراکی مصنوعات کی تیاری، ترسیل، فروخت اور معیار کی نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی کے لائسنس فیس اسٹرکچر پر نظرثانی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی لائسنس فیس میں 40 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فوڈ سیفٹی نظام کو بہتر بنانے، انسپیکشن کے عمل کو وسعت دینے، لیبارٹری ٹیسٹنگ، سیمپلنگ، قانونی کارروائیوں اور انتظامی اخراجات کے باعث لائسنس فیس اسٹرکچر پر نظرثانی ضروری ہے۔

صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ لائسنس فیس کا معاملہ حتمی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ صوبائی وزیر خوراک نے ہدایت کی کہ عام لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے تندور کی لائسنس فیس کا خصوصی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا مقصد چھوٹے کاروبار کرنے والوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عام شہری، چھوٹے دکاندار اور عوامی ضروریات سے متعلق کاروبار متاثر نہ ہوں، تاہم خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی میں بی پی ایس 17 سے 19 تک 94 اضافی آسامیاں پیدا کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں اتھارٹی کے دائرہ کار میں اضافے کے باعث پیشہ ورانہ، تکنیکی، انتظامی اور فیلڈ سطح کی افرادی قوت میں اضافہ ناگزیر ہے۔

اضافی آسامیاں پیدا ہونے سے اتھارٹی کی ضلعی سطح پر موجودگی بہتر ہوگی، انسپیکشن کا نظام مضبوط ہوگا اور فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد میں مزید تیزی آئے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی سندھ فوڈ اتھارٹی کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ، غیر معیاری تیل، مضر صحت خوراک، زائد المیعاد اشیا، غلط لیبلنگ اور غیر صحت مند ماحول میں تیار ہونے والی خوراک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔

مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ خوراک میں ملاوٹ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ دودھ، تیل، گھی، مصالحہ جات، مشروبات، بیکری مصنوعات، ریسٹورنٹس، ہوٹلز، فوڈ فیکٹریوں، گوداموں اور ریٹیل آٹ لیٹس کی باقاعدہ انسپیکشن کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کا مقصد کاروباری طبقے کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ خوراک کے معیار کو بہتر بنانا، صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور فوڈ بزنسز کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون پر عمل کرنے والے فوڈ آپریٹرز کو سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم عوام کو غیر محفوظ خوراک فراہم کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی سطح پر فوری کارروائی اور انسپیکشن کا عمل مزید مثر بنایا جائے گا۔ مخدوم محبوب الزمان نے ہدایت کی کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور تسلسل کے ساتھ کارروائیاں کریں اور عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور صوبے بھر میں خوراک کے معیار کی نگرانی، ملاوٹ کے خاتمے، فوڈ بزنسز کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور عوامی آگاہی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔