معاشی ترقی کے ذریعے ٹیکسوں میں اضافے کی پالیسی اپنائی جائے،میاں زاہدحسین

بدھ 6 مئی 2026 18:09

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے آخری مراحل میں ہے، اس موقع پرایف پی سی سی آئی کی بجٹ ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے قومی معاشی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پرزوردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی طویل مدتی پائیداری اس بات میں مضمر ہے کہ محصولات میں اضافے کومعیشت کی ترقی سے منسلک کیا جائے، نہ کہ صرف ٹیکس وصولی پرانحصارکیا جائے۔

میاں زاہد حسین نے موجودہ معاشی صورتحال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت ایک اہم موڑپرکھڑی ہے جہاں جی ڈی پی 110 سے 115 کھرب روپے (تقریبا 411 ارب ڈالر)تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 5.1 فیصد معاشی ترقی کا ہدف مقررکیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

تاہم، فیڈرل بورڈ آف ریونیوکورواں مالی سال میں 680 ارب روپے سے زائد کا شارٹ فال کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ علاقائی سپلائی چین میں رکاوٹیں، درآمدی پابندیاں، اور ٹیکس بیس میں اضافے میں ناکامی ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ محدود ٹیکس دہندگان پربھاری ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی نہ صرف صنعتی ترقی کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو سست اور سرمایہ کے انخلا کا باعث بھی بنتی ہے۔ "محصولات پر مبنی پالیسی مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے موجودہ ٹیکس دہندگان پربوجھ بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت کا پہیہ سست ہوجاتا ہی"۔ میاں زاہد حسین نے اس بات پرزوردیا کہ حکومت کو معیشت میں ترقی کے ذریعے محصولات میں اضافے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

برآمدی شعبوں کی مسابقت بڑھانے، توانائی کے اخراجات کم کرنے، ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور دستاویزی عمل کو آسان بنانے سے معیشت کے حجم کو 405 ارب ڈالر سے بڑھا کر وزیراعظم میاں شہباز شریف کے وژن کے مطابق ایک ہزار ارب ڈالر تک وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس طرح ٹیکس ٹوجی ڈی پی شرح کو موجودہ 10.6 فیصد سے بڑھا کر ایک مستحکم سطح تک لایا جا سکتا ہے۔میاں زاہد حسین نے حکومت پرزوردیا کہ آئندہ بجٹ میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور کاروبار دوست اصلاحات کو ترجیح دی جائے، سختی کے ذریعے ٹیکسوں کے حصول کے بجائے ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ٹیکس وصولی کی پالیسی بنائی جائے تا کہ ایس ایم ای سیکٹراور صنعتوں کی ترقی کے ذریعے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہو بلکہ پاکستان کے دیرینہ معاشی و مالی مسائل بھی حل ہوسکیں۔