صدر لاہور چیمبر کی سینیٹ فنانس کمیٹی اجلاس میں زیادہ ٹیکسز اور توانائی لاگت کے خاتمے کی تجاویز

حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان خلا کو کم کیا جائے ،قابل عمل تجاویز پالیسی سازوں تک پہنچائی جائیں‘ اتفاق

بدھ 6 مئی 2026 19:38

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل سمیت ملک بھر کے بڑے چیمبرز کے صدور نے اجلاس میں شرکت کی، جس کا مقصد آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل تجاویز کا جائزہ لینا تھا۔

چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اجلاس کا مقصد بجٹ سے قبل معاشی بے ضابطگیوں کو ختم کرنا اور کاروباری برادری کی تجاویز کو شامل کرنا ہے۔ وزارت تجارت، خزانہ اور کسٹمز کے نمائندگان بھی اجلاس میں موجود تھے۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ پاکستان اس وقت بلند کاروباری لاگت، زیادہ ٹیکسوں اور بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ڈی انڈسٹریلائزیشن کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان عوامل نے صنعتی مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔انہوں نے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس پر سخت نگرانی کرے تاکہ صرف حقیقی برآمد کنندگان ہی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس اور ٹیرف نظام میں موجود ساختی خرابیوں کو دور کیے بغیر برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔

فہیم الرحمن سہگل نے آئندہ بجٹ میں انسانی سرمائے کی ترقی کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید فنی اور پیشہ ورانہ سکلز سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ سکلز اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی اور اضافی ٹیکسوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی بحالی اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایک مستحکم اور کاروبار دوست پالیسی ماحول ناگزیر ہے۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان خلا کو کم کیا جائے اور قابل عمل تجاویز پالیسی سازوں تک پہنچائی جائیں۔سینیٹرز اور حکام نے نشاندہی کی کہ پاکستانی کاروبار عالمی منڈی میں زیادہ ٹیرف، ڈیوٹیز اور غیر موافق ٹیکس نظام کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان برآمدات پر بھی ٹیکس عائد کرتا ہے، جس سے مسابقت متاثر ہوتی ہے۔کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد ٹیکس نظام کو معقول بنانے، سپر ٹیکس سمیت بے ضابطگیوں کے خاتمے اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات کی سفارش کی۔