اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے زیر اہتمام سرحدوں سے ماورا سچ: تنازعاتی حالات میں جعلی خبروں کا مقابلہ کے عنوان سے ایک ویبینار منعقد ہوا جس میں مقررین نے غلط معلومات کے مختلف خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے حقائق کے تحفظ کے لئے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ویبینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ویبینار میں جامعات، میڈیا، سفارتی مشنز اور
سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور بحرانی حالات میں جھوٹی معلومات کے اثرات کا جائزہ لیا۔ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل رئیسہ عادل نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس مباحثے کا مقصد تنازعاتی حالات میں غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنا ہے۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات کی ترسیل عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے اور استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں کو پیچیدہ بناتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے اور درست معلومات کے فروغ کے لئے اداروں اور ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ویبینار نے ماہرین کو معلوماتی رجحانات پر تبادلہ خیال اور ابلاغ میں اعتبار کو مضبوط بنانے کے لئے عملی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جس میں
پاکستان اور بیرونِ ملک سے بھی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم نے کہا کہ موجودہ معلوماتی منظرنامے میں جعلی خبروں کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے فروغ سے من گھڑت مواد کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث حقیقت اور افسانے میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ
انٹرنیٹ سے مصدقہ معلومات تک رسائی بہتر ہونے کی توقع تھی تاہم اس نے غیر مصدقہ اطلاعات کی تیز تر ترسیل کو بھی ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ
دنیا میں ہائبرڈ جنگی حکمت عملیوں کے تحت گمراہ کن معلوماتی مہمات پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات اب صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے ساتھ متوازی بیانیوں کی
جنگ بھی چلتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اپنا مقف پیش کرنے والے ممالک کے لئے حقائق پر مبنی مستقل پیغام رسانی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گمراہ کن مہمات قابلِ تصدیق معلومات سے مطابقت نہ رکھیں تو وہ اپنی ساکھ کھو دیتی ہیں۔اس موقع پر ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے آن لائن غلط معلومات کے رجحانات اور جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے استعمال ہونے والے ذرائع پر تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی
۔قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر
ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہوا ہے جو واقعات کا جائزہ لینے اور یہ دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ قومی بیانیہ کس انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا حکومتی اداروں، محققین اور ماہرین کی جانب سے پیش کردہ مقف عالمی برادری تک پہنچا یا نہیں اور آیا وہ حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپریل 2025 کے واقعات سے قبل علاقائی صورتحال سے متعلق عالمی تصورات مخصوص بیانیوں سے تشکیل پاتے تھے تاہم 22 اپریل سے 10 مئی تک کے عرصے میں ہونے والی پیشرفت نے ان تصورات کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کیا۔
ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ اس صورتحال نے عسکری محاذ آرائی کے انداز میں تبدیلیوں کو نمایاں کیا اور دفاعی و جوابی حکمت عملیوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر واقعات کی قبولیت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ معلومات کو کس انداز سے پیش اور جانچا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتوں اور عالمی ماہرین کا کردار نتائج اور بیانیوں کی تشکیل میں اہم رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی تنازعات سے ریاستی سطح کی محاذ آرائیوں کی جانب منتقلی نے ابلاغ اور پالیسی دونوں میں نئی حکمت عملیوں کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ایسوسی ایٹ پروفیسر
ڈاکٹر سلمی ملک نے تنازعات سے متعلق رپورٹنگ میں غلط معلومات اور پراپیگنڈے کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان تین عناصر کو واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مِس انفارمیشن سے مراد غیر درست معلومات کی ترسیل ہے جبکہ ڈس انفارمیشن جان بوجھ کر گمراہ کرنے کے لئے تیار کردہ جھوٹے مواد کو کہا جاتا ہے۔
ان کے مطابق پراپیگنڈا مخصوص یا غلط معلومات کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
۔ڈاکٹر سلمی ملک نے کہا کہ تنازعات کے دوران معلومات خود ایک میدانِ
جنگ بن جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے اکثر منتخب رپورٹنگ اور ڈیجیٹل مواد کے ذریعے تشکیل دیئے جاتے ہیں جو ملکی اور عالمی سطح پر عوامی تاثر کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹے مواد کی نشاندہی اور ذمہ دارانہ ابلاغ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے معلومات کی ترسیل سے قبل تصدیق کے عمل میں جامعات اور میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا
۔پاکستان میں
چین کے سفارتخانہ کے پولیٹیکل قونصلر وانگ شینگ جی نے جدید معلوماتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
ٹیکنالوجی میں ترقی نے معلومات کی تیاری اور ترسیل کے طریقوں کو تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے مواد میں ردوبدل کے نئے طریقے متعارف کرائے ہیں، جن میں تبدیل شدہ آڈیو اور بصری مواد بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق معلوماتی
جنگ جدید بحرانوں کا ایک عام عنصر بن چکی ہے۔عالمی رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات کے ساتھ اب ڈیجیٹل مہمات بھی چلائی جاتی ہیں جن کا مقصد عوامی رائے پر اثرانداز ہونا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری برقرار رکھتے ہوئے تکنیکی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر پاکستانی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجیکل پلیٹ فارمز بیانیہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غلط معلومات امن کی کوششوں اور عوامی فہم کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، میڈیا اداروں اور جامعات کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیا۔ویبینار کا اختتام تنازعاتی حالات میں جھوٹی معلومات کے تدارک کے لیے پالیسی اقدامات، ڈیجیٹل خواندگی اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق مباحثے پر ہوا۔