دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست اور سفارتکاری کو فروغ دیا ہے

جب بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عالمی وعلاقائی امن کیلئے خطرہ بنتی ہے تو پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی پالیسی کو ترجیح دی ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کا خطاب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 6 مئی 2026 19:23

دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست اور ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 06 مئی 2026ء ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے دو روزہ بین الاقوامی نارووال پیس ڈائیلاگ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومیں صرف اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ مضبوط اور مربوط ڈھانچے یعنی “بنیان المرصوص” کی طرح متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے معرکۂ حق میں قومی اتحاد، عزم اور یکجہتی کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور آج بھی یہی جذبہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے بدلتے ہوئے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عالمی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ بنتی ہے، پاکستان نے ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی کو ترجیح دی ہے، جو اس کی متوازن اور اصولی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ بین الاقوامی نارووال پیس ڈائیلاگ ایک بروقت اور نہایت اہم اقدام ہے جو پاکستان کے امن کے لیے بڑھتے ہوئے کردار اور عالمی سطح پر پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس مکالمے میں شریک مندوبین اپنے معاشروں میں امن، محبت اور بھائی چارے کے سفیر بن کر جائیں گے۔
انہوں نے تعلیم اور علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم ایک ایسی طاقت ہے جو ہر رکاوٹ کو شکست دے سکتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب مسلم دنیا نے تحقیق اور علم سے دوری اختیار کی تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ علم، تحقیق اور قرآن کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چھوٹے ممالک نے نظم و ضبط، تحقیق اور اتحاد کے ذریعے بڑی اقوام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، لہٰذا پاکستان کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی سوچ اور کردار ہی قوموں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں، اس لیے اس مکالمے کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو نفرت، تعصب اور تقسیم سے دور رکھ کر برداشت اور ہم آہنگی کی طرف لانا ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی یونیورسٹی زندگی کو صرف تعلیمی کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ کردار سازی، قیادت اور شخصیت سازی پر بھی توجہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت علامہ اقبال کے افکار کو فروغ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں میں خودی، خود اعتمادی اور قومی شعور کو اجاگر کیا جا سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور باوقار ریاست بنانے کے لیے نوجوان نسل کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا، تاہم اگر روایتی رویے برقرار رہے تو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اتحاد، محنت اور علم کے ذریعے پاکستان اپنا روشن مستقبل خود تشکیل دے سکتا ہے۔
انہوں نے اسلام کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دین اسلام تمام مذاہب کے احترام، برداشت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اسلامی اصولوں کے منافی ہے، جبکہ اسلام امن، انصاف اور رواداری کا علمبردار ہے۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے تمام شرکاء، منتظمین اور بین الاقوامی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور مہمان نواز ملک ہے، اور ایسے مکالمے عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم مراکش ڈاکٹر سعد الدین العثمانی نے بھی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ نارووال کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ قرار دیا اور اس کی تنظیمی و انتظامی کارکردگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس نے مکالمے، برداشت، ہم آہنگی اور اتفاق رائے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اس جامعہ کے طلبہ علم و روشنی کے سفیر بن کر عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر رکن صوبائی اسمبلی اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اقبال احمد نے دوسرے بین الاقوامی نارووال پیس ڈائیلاگ 2026 کا اعلامیہ پیش کیا۔

اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس مشن کی بنیاد ایمان، آئین پاکستان، تہذیبی ورثے، پیغامِ پاکستان، میثاقِ مدینہ اور بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن پر ہے۔ اعلامیے میں انسانی جان کے احترام، مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دینے، مذہبی رواداری، مساوات، عدم امتیاز اور تکثیری معاشرے کے فروغ پر زور دیا گیا جبکہ اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کو بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا۔