تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض سے نمٹنے کے لیے آگاہی، بروقت تشخیص اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے، وزیر بلدیات سندھ

سندھ حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ،مرض خاتمے کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، ناصر حسین شاہ

جمعرات 7 مئی 2026 00:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے نیشنل تھیلیسیمیا کانفرنس 2026 میں شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض سے نمٹنے کے لیے آگاہی، بروقت تشخیص اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے، سندھ حکومت اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس مرض کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

کانفرنس میں معروف کرکٹرز، سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ ثاقب حسین انصاری اور ڈاکٹر مصباح نے وزیر بلدیات کا استقبال کرتے ہوئے انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ اپنے خطاب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تھیلیسیمیا آگاہی پروگرام نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور اس بیماری کی روک تھام کے لیے ہر سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے مشترکہ اقدامات کر رہی ہیں تاکہ نئی نسل کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے قانون سازی بھی کی ہے اور اس پر مثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے کام کرنے والے اداروں کو مکمل سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی خصوصی توجہ سے صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، خصوصا تھیلیسیمیا کے خلاف آگاہی اور علاج کے نظام کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔

تقریب کے اختتام پر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے تھیلیسیمیا کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دینے والی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات میں شیلڈز تقسیم کیں اور ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے مربوط اور مثر حکمت عملی پر عملدرآمد کو مزید تیز کیا جائے گا۔