مقبوضہ کشمیر، جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلباء کا احتجاجی مظاہرہ ، ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ

جمعرات 7 مئی 2026 22:41

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع شوپیاں میں آج جامعہ سراج العلوم کے سیکڑوں طلباء اورانکے والدین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جسے بھارتی حکومت نے غیر قانونی قراردیکر گزشہ ماہ سیل کر دیا تھا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق احتجاجی طلبا نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ حکام نے ادارہ بند کر کے انکا مستقبل تاریک کر دیا ہے اور وہ سخت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

طلباء کا کہنا تھا کہ بورڈ کے امتحانات قریب ہیں اور اس نازک وقت میں ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کیا جار ہا ہے ۔ طلباء اور والدین نے حکام سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ادارے کوجلد ازجلد کھول دیں۔

(جاری ہے)

امر سنگھ کالج سری نگر کے طلباء نے بھی کالج انتظامیہ کے ناروا رویے اور ہراسانی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ انہوںنے ہراسانی میں ملوث افراد کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ضلع بارہمولہ کے معروف قصبے سوپور میں بھارتی فوج کی گاڑی نے ایک تین سالہ بچے محمد زین کو دانستہ طور پر ٹکر مار کر مار ڈالا۔بچے کے اہلخانہ سمیت علاقے کے لوگو ں نے دلدوز واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ انہوں نے مجرم بھارتی فوجیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا بھارتی انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں ضمیر احمد لون نامی ایک کشمیری کی ایک کنال اور 14مرلے سے زائد اراراضی ضبط کرلی۔

سرینگر میں بھی ایک کشمیری کی جائیداد ضبط جبکہ ایک اور کا گھر مسمارکیا گیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی معرکہ حق کا ایک برس مکمل ہونے کے موقع پر انتہائی جوش وخروش پایا جاتا ہے۔ کشمیری پاکستان کی شاندار کامیابی اور بھارت کی شکست فاش کا دن انتہائی جوش وخروش سے منا رہے ہیں۔آزادی پسند کشمیری نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے حق میں ویڈیوز اپ لوڈ کی جارہی ہیں جبکہ سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تصویر والے پوسٹر چسپاں کیے جا رہے ہیں۔