گورنرپنجاب نے ٹریفک قوانین کے جرمانوں میں کمی ،سزائیں ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے

جمعرات 7 مئی 2026 22:20

گورنرپنجاب نے ٹریفک قوانین کے جرمانوں میں کمی ،سزائیں ختم کرنے کے بل ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ٹریفک قوانین کے جرمانوں میں کمی اور سزائیں ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے ۔گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ٹریفک قوانین کے جرمانوں میں کمی اور سزائیں ختم کرنے کے بل صوبائی موٹر وہیکل (دوسری ترمیمی) بل 2026ء پر دستخط کر دیئے۔صوبائی موٹر وہیکل (دوسری ترمیمی) بل 2026ئمیں سخت سزاؤں میں بڑی نرمی، جرمانے کم، قید کی سزائیں ختم کر دی گئی ہیں۔

گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ترمیمی بل پردستخط کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے اوراس نے ہمیشہ عوامی خدمت کے فیصلے کئے۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہیں اور ٹریفک قوانین کی مد میں اضافی جرمانے مناسب نہیں۔

(جاری ہے)

گورنر پنجاب نے کہا کہ موجودہ بل میں جرمانوں اور سزاؤں میں ترمیم سے غریب افراد، موٹر سائیکل سوار،رکشہ ڈرائیوروں کو ریلیف ملے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ میرے دستخط کے بعد پراونشل موٹر وہیکل (فورتھ امینڈمنٹ) آرڈیننس 2025ء منسوخ ہو گیا ہے۔گورنر پنجاب نے مزیدکہا کہ پرانے آرڈیننس میں مختلف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے غریب لوگوں پر بہت بڑا ظلم تھا۔پرانے آرڈیننس میں لائسنسگ سے متعلق جرم کی سزا 50 ہزار سے ایک لاکھ جرمانہ اور قید کو نئے بل میں 10 ہزار سے 5ہزار اور قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔

ون وے خلاف ورزی کی سزا 50 ہزار یا 6 ماہ قید یا دونوں تھی جبکہ نئی قانون سازی میں جرمانہ 5 ہزار اور قید ختم کر دی گئی ہے۔صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس، غلط سمت میں گاڑی چلانے، عمر کی حد کی خلاف ورزی، فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑی استعمال کرنے اور اوور لوڈنگ جیسے ٹریفک جرائم میں پہلے سے موجود قید اور لاکھوں روپے کے جرمانوں کو ختم یا کم کر دیا گیا ہے۔

لائسنس کی خلاف ورزی پرآرڈیننس 2025ء میں پچاس ہزار روپے جرمانے کی تجویز تھی، جبکہ نئے بل میں یہ صرف پانچ ہزار روپے کر دیا گیا۔ قید کی سزا ختم۔غلط سمت میں گاڑی چلانے پر آرڈیننس میں چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانے کی دفعات تھیں، نیا بل صرف پانچ ہزار روپے جرمانے کی دفعات رکھتا ہے۔عمر کی حد کی خلاف ورزی پرآرڈیننس میں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپے کی سزا تھی، نیا بل میں دس ہزار روپے جرمانہ تجویز کرتا ہے۔

تاہم ایسی صورت میں گاڑی ضبط کر کے مالک یا مجاز شخص کے حوالے کی جائے گی، جو واجب الڈرائیونگ لائسنس رکھتا ہو۔بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی پرپرانے آرڈیننس میں چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے اور سابقہ سزا کی صورت میں دو سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانے کی دفعات تھیں۔ نئے بل میں پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا ہے۔ گاڑی کو صرف انسپیکشن سٹیشن تک چلانے کی اجازت ہوگی۔پبلک سروس گاڑی میں حد سے زائد مسافر پر پہلے چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے کی سزا تھی، اب پانچ ہزار روپے جرمانہ۔ خاص طور پر چھت پر سوار مسافروں یا گاڑی کے اطراف لٹکنے والوں پر یہ لاگو ہوگا۔