بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے دس سالہ جامع ترقیاتی پلان مرتب کرلیا گیا،وزیر اعلی بلوچستان کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد سے گفتگو

جمعہ 8 مئی 2026 12:05

بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے دس سالہ جامع ترقیاتی پلان مرتب کرلیا ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 مئی2026ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے جمعہ کو ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ژیاؤچن ایما فین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی جس میں بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں آبی وسائل، زراعت، منرلز اینڈ مائنز، تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سکلز ڈویلپمنٹ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔

ترجمان وزیراعلی بلوچستان کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے کچھی کینال سمیت بلوچستان کے آبی و زرعی ترقیاتی منصوبوں میں وسیع المدتی سرمایہ کاری اور مالی معاونت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

(جاری ہے)

فریقین نے تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنی تربیت اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے قابل عمل منصوبوں پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا ۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت ترقیاتی عمل میں عالمی اور قومی ڈویلپمنٹ پارٹنرز کو خوش آمدید کہتی ہے اور صوبے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے قابل عمل اور منافع بخش شعبوں میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود ترقیاتی وسائل میں عوامی ضروریات کے مطابق موثر ترقیاتی حکمت عملی پر عمل درآمد اور صوبے کی پسماندگی کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ضرور ہے تاہم حکومت ترجیحات کا درست تعین کرکے دیرپا اور عوام دوست منصوبوں پر پیش رفت کررہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے دس سالہ جامع ترقیاتی پلان مرتب کرلیا گیا ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں مرحلہ وار اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ، پرامن اور پرکشش خطہ بنایا جارہا ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور موثر سکیورٹی فراہم کرے گی۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت میگا منصوبوں کے تحفظ، تکمیل اور موثر عملدرآمد کی مکمل استعداد اور صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور نئے معاشی مواقعوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں 3200 بند سکول دوبارہ فعال کیے جاچکے ہیں جبکہ 2100 کمیونٹی بیسڈ نئے سکول بھی قائم کیے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی توجہ معیاری تعلیم، جدید تعلیمی سہولیات اور انسانی وسائل کی ترقی پر مرکوز ہے تاکہ نوجوانوں کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور حکومت بلوچستان موثر پالیسی سازی کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے اہداف کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ ملاقات میں صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون بھی موجود تھے۔