سیکشن 7E کالعدم ہونے سے تعمیراتی شعبہ دوبارہ فعال ہوگا، میاں زاہد حسین

جمعہ 8 مئی 2026 18:17

سیکشن 7E کالعدم ہونے سے تعمیراتی شعبہ دوبارہ فعال ہوگا، میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچولزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے وفاقی آئینی عدالت کے سیکشن 7E سے متعلق تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری کے مقف کی فتح قرار دیا ہے۔

میاں زاہد حسین کہا کہ وفاقی آئینی عدالتِ کی جانب سے سیکشن 7E کو آئین سے متصادم قراردینا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ قانون غیرمنقولہ جائیداد پر "فرضی آمدن" کے تصور کے تحت ٹیکس عائد کرتا تھا، جس نے ریئل اسٹیٹ سیکٹرکوشدید جمود کا شکار کر دیا۔ ان کے مطابق کاروباری حلقے طویل عرصے سے اس قانون کوغیرمنصفانہ قراردیتے آئے ہیں کیونکہ انکم ٹیکس ہمیشہ حقیقی آمدن پرعائد ہونا چاہیے، نہ کہ تخمینی یا فرضی منافع پر۔

(جاری ہے)

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کواس وقت تقریبا ایک کروڑ بیس لاکھ گھروں کی کمی کا سامنا ہے جبکہ ہرسال 4.5 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں پراپرٹی سیکٹرمیں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی قومی ترقی کے اہداف کے خلاف ہے۔ میاں زاہد حسین مزید کہا کہ ریئل اسٹیٹ کے بحران نے سیمنٹ، اسٹیل، ٹرانسپورٹ اوردیگر 40 سے 70 ذیلی صنعتوں کو بھی متاثرکیا۔

ان کے مطابق تعمیراتی شعبے کی سست روی سے روزگار، صنعتی پیداوار اور مجموعی قومی معیشت کو نقصان پہنچا جبکہ اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس معاشی نقصان کے مقابلے میں نہایت کم تھی۔میاں زاہد حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں سیکشن 7E اور 7F کو مکمل طور پرختم کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اورتعمیراتی شعبہ دوبارہ فعال ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ کمزور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو معیشت کا حجم بڑھانے، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اورریٹیل سیکٹرکوٹیکس نیٹ میں لانے پرتوجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو۔میاں زاہد حسین نے زوردیا کہ کاروباردوست ماحول ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے، جہاں ٹیکس حقیقی آمدن پرلیا جائے تاکہ رسمی معیشت کی سرمایہ کاری اورصنعتی میدان میں جدت اور ترقی کا عمل جاری رہ سکے۔