وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مبینہ ٹارگٹڈ بے دخلی کی خبروں کو مسترد کر دیا

بے دخلیاں صرف میزبان ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی، اوور اسٹے یا غیر قانونی دستاویزات پر کی جاتی ہیں،پاکستانی شہری بدستور یو اے ای اور دیگر دوست ممالک میں ویزے اور ملازمت کے مواقع حاصل کر رہے ہیں، وزارت داخلہ

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 8 مئی 2026 17:28

وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مبینہ ٹارگٹڈ بے دخلی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2026ء)   وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ ٹارگٹڈ بے دخلی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بدنیتی پر مبنی اور منفی پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کو مخصوص بنیادوں پر نکالا جا رہا ہے، تاہم حکومت کے مطابق ایسی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  کسی مخصوص ملک یا قوم سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی اجتماعی یا ٹارگٹڈ بے دخلی نہیں ہو رہی۔ وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ بیرون ملک بے دخلی کے واقعات عام طور پر میزبان ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام (اوور اسٹے)، یا غیر قانونی سفری دستاویزات کے استعمال جیسے معاملات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد ایک معمول کی قانونی کارروائی ہے اور اسے کسی خاص ملک یا کمیونٹی کے خلاف اقدام کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق یو اے ای سمیت دوست ممالک اپنی امیگریشن پالیسیوں کے تحت قوانین پر عمل کراتے ہیں، جن کا اطلاق تمام غیر ملکی شہریوں پر یکساں طور پر ہوتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہری بدستور یو اے ای اور دیگر خلیجی و دوست ممالک میں ویزے، روزگار اور کاروباری مواقع حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سفارتی اور معاشی تعلقات کا ثبوت ہے۔

حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ دوستانہ روابط موجود ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔  بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بیرون ملک کسی پاکستانی شہری کو درپیش مسئلے کی صورت میں ہر کیس کو سفارتی سطح پر الگ الگ دیکھا جاتا ہے اور متعلقہ ملک کے حکام کے ساتھ رابطے میں رہ کر معاملات حل کیے جاتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح کے لیے مسلسل متحرک ہے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن سفارتی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔