عطاء اللہ تارڑ کی معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد

’معرکہ حق ‘‘میں فتح کے بعد آج دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ و مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، ’’معرکہ حق ‘‘قومی عزم، جذبے اور وژن کی علامت ہے، بیانیے کی جنگ میں حقائق اور سچ اہمیت رکھتے ہیں، بھارتی حکومت نے سچائی کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں عائد کیں، ہم نے انڈین چینلز پر پابندی کی بجائے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی تبدیل کی، ہماری ٹیم نے بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے صارفین تک پاکستانی ملی نغمے، ترانے اور جے ایف 17 تھنڈرز کی ویڈیوز پہنچائیں جس کے نتیجے میں بھارتی عوام خود اپنی حکومت سے سوال کرنے پر مجبور ہو گئے،’’معرکہ حق ‘‘میں جامع حکمت عملی اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہر سطح پر دشمن کو بھرپور جواب دیا گیا، وزیراطلاعات بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق وہاں استصواب رائے ہونا چاہئے، خطاب

جمعہ 8 مئی 2026 16:34

عطاء اللہ تارڑ کی معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’معرکہ حق ‘‘میں فتح کے بعد آج دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ و مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، ’’معرکہ حق ‘‘قومی عزم، جذبے اور وژن کی علامت ہے، بیانیے کی جنگ میں حقائق اور سچ اہمیت رکھتے ہیں، بھارتی حکومت نے سچائی کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں عائد کیں، ہم نے انڈین چینلز پر پابندی کی بجائے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی تبدیل کی، ہماری ٹیم نے بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے صارفین تک پاکستانی ملی نغمے، ترانے اور جے ایف 17 تھنڈرز کی ویڈیوز پہنچائیں جس کے نتیجے میں بھارتی عوام خود اپنی حکومت سے سوال کرنے پر مجبور ہو گئے،’’معرکہ حق ‘‘میں جامع حکمت عملی اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہر سطح پر دشمن کو بھرپور جواب دیا گیا۔

(جاری ہے)

وہ جمعرات کو یہاں سینٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام ’’معرکہ حق سیمینار‘‘ سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستانی اور بین الاقوامی صحافیوں کے ایک وفد کو بیلا نور شاہ کے اس علاقے کا دورہ کرایا گیا جس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں، ہم صحافیوں کے وفد کو عین اسی مقام پر لے گئے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ وہاں معمولات زندگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں، اس دورے کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا یہ دورہ اس قدر موثر اور کامیاب رہا کہ اس کے بعد ہم نے اگلے روز مریدکے اور بہاولپور کے دورے کا منصوبہ بنایا جہاں بھارت نے دہشت گرد سرگرمیوں کے الزامات عائد کئے تھے تاہم ہمارے دورے سے قبل ہی بھارت نے بزدلانہ حملہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کی بنیاد ہی پروپیگنڈے اور من گھڑت کہانیوں پر قائم تھی۔

انہوں نے کہا کہ سٹریٹیجک بیانیہ کے محاذ پر درست معلومات، درست وقت پر اور درست سامعین تک پہنچانا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں بھی متعدد فالس فلیگ آپریشنز کئے ہیں، یہ اس کی تاریخ رہی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فالس فلیگ آپریشنز کو پاکستان کے خلاف جارحیت اور حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کو آج تقریباً آٹھ دہائیاں گذر چکی ہیں تاہم بھارت آج بھی دو قومی نظریے کی حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا وجود ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے جبکہ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہم نے اپنی مشرقی سرحد کے اس بار ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثرات کو بھی واضح طور پر دیکھا ہے، وہاں ہم نے اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو بھی دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹریٹیجک بیانیے کی بات آئی تو ہمارا پہلا اور دوٹوک موقف یہی تھا کہ بھارت ہمیشہ اپنے داخلی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور بیرونی مسائل کو داخلی مسئلہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بھارت کا داخلی مسئلہ ہے، یہ کوئی بیرونی مسئلہ نہیں، اس کے برعکس جموں و کشمیر کا تنازعہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے کیونکہ بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق وہاں استصواب رائے ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام دہائیوں سے جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں، کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جبکہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور مسائل کو بیرونی خطرات سے جوڑ کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے جھوٹے بیانیے اور گمراہ کن پروپیگنڈا کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ دہشت گردی کو فروغ دیا، سرحدوں سے ماوراء جارحیت اور مختلف ممالک میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگز اور قتل کی کارروائیاں دنیا کے سامنے ہیں، کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ہو یا امریکہ اوربرطانیہ میں ہونے والی بین الاقوامی سطح کی ٹارگٹ کارروائیاں کسی انفرادی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ اور نطریے کی عکاسی ہیں اور وہ نظریہ دہشت گردی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف صف اول کی ریاست رہا ہے جبکہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دیتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، کوئی دوسرا ملک ایسی مثال پیش نہیں کر سکتا، دنیا میں کوئی اور قوم ایسی نہیں ہے جس کے پاس دہشت گردی کی جنگ میں اتنی عظیم قربانیوں کا ریکارڈ موجود ہو جتنا پاکستان کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کے افسران سے لے کر جوانوں تک بے مثال قربانیوں کی داستان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس فورس اور معصوم بچوں نے دہشت گردی کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے، آرمی پبلک سکول کے المناک سانحہ کو کوئی نہیں بھلا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کی ریاست ہے، ہمارے بچوں نے اس جنگ میں قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں پاکستان نے کئی ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی پاکستانی دہشت گردی کی جنگ میں اپنے وطن کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو وہ صرف پاکستان کے لئے قربانی نہیں دیتا بلکہ پوری دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے قربانی دیتا ہے، اگر ان قربانیوں کا سلسلہ نہ ہوتا تو یہ دہشت گرد دنیا بھر میں دندناتے پھر رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے جبکہ بھارت ہمیشہ دہشت گردی کو فروغ دیتا آیا ہے، بھارت مسلسل پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، پہلگام واقعہ کے حوالے سے بھارت نے جس انداز میں بیانیہ گھڑا وہ نہ صرف غیر منطقی بلکہ مضحکہ خیز بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کی ایف آئی آر واقعہ کے صرف دس منٹ بعد درج کی گئی جبکہ خود اس سیاحتی مقام پر مناسب سکیورٹی موجود نہیں تھی، یہ تمام عوامل اس بیانیہ کی کمزوریوں اور اس کے غیر سنجیدہ پن کو واضح کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام کا علاقہ لائن آف کنٹرول سے سو کلو میٹر سے زائد فاصلے پر ہے، ایسے میں اگر در اندازی ہوئی بھی تھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کا دفاعی نظام کہاں تھا یہ نام نہاد دہشت گرد سینکڑوں کلو میٹر اندر تک کیسے داخل ہوئی یہ تمام پہلو بھارت کے موقف پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بیانیہ کی جنگ میں ہمیں سب سے بڑی برتری اس وقت حاصل ہوئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ پاکستان پہلگام واقعہ کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، ایک سال گذرنے کے باوجود بھارت کے پاس اس حوالے سے کوئی موثر بیانیہ موجود نہیں ہے، ہر مرتبہ جب پہلگام واقعہ کے حوالے سے’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کا ذکر کیا جاتا ہے تو کوئی واضح یا بامعنی جواب سامنے نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس اپنے موقف کو تقویت دینے کے لئے کوئی ٹھوس شواہد یا قابل اعتماد بنیاد موجود نہیں، اس خلاء کی وجہ سے صورتحال خود بخود سوالات کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیانیہ کی سیاست میں حقیقت ایک انتہائی طاقتور عنصر ہوتی ہے اور بالآخر سچ ہی غالب آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے انسداد دہشت گردی کے کردار کو شواہد اور تجربات کی بنیاد پر اجاگر کرتا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے موثر یا مربوط جواب سامنے نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ بیانیہ کی جنگ میں اصل قوت شفافیت، ثبوت اور مسلسل موقف کی یکسانیت کو حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بیانیہ کے محاذ پر واضح برتری حاصل ہوئی، یہ برتری قومی سطح پر ہم آہنگی، اتحاد اور مربوط حکمت عملی کا ثمر ہے، یہ ہم آہنگی اور اشتراک عمل اس لئے ممکن ہوا کیونکہ سول و عسکری اداروں کے درمیان بہترین رابطہ اور معاونت موجود تھی، سوچ اور عمل کی سطح پر مکمل یکسانیت نے صورتحال کو موثر انداز میں سنبھالنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر مسلسل رابطے میں رہے، بروقت معلومات کا تبادلہ ہوتا رہا اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت بیانیہ تشکیل دیا جاتا رہا، اس پورے عمل میں معلومات کی فوری دستیابی اور مربوط ترسیل نے فیصلہ سازی کو موثر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد و یگانگت مختلف سطحوں تک پھیلتا ہوا نظر آیا، قوم نے حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھارتی جارحیت اور بلا جواز حملوں کا سامنا تھا تو اس وقت پارلیمنٹ کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے اس بات پر فخر تھا کہ سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر ہم سب متحد ہیں، اس ایوان میں اس وقت کوئی سیاسی اختلاف موجود نہیں تھا اور پوری قوم نے دشمن کو یہ واضح پیغام دیا کہ ہم ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم متحد ہوتی ہے تو وہ ایک ایسی قوت بن جاتی ہے جس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے کردار کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے جنہوں نے ہر سطح پر ریاستی اداروں کے ساتھ غیر معمولی وابستگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ وفاقی وزیر نے ’’معرکہ حق ‘‘کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کی جنریشن زی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنریشن زی نے بیانیہ سازی کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی، نوجوان نسل نے جدید ذرائع، تخلیقی اظہار اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے موثر اور مثبت کردار ادا کیا۔

بیانیہ اور معلوماتی محاذ پر جدوجہد میں نوجوان نسل خصوصاً جنریشن زی کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا، پاکستان کی نوجوان نسل نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل اظہار کے ذریعے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جنریشن زی نے روایتی انداز کی بجائے نئے اور موثر ذرائع اختیار کئے جن میں مزاح، طنز اور تخلیقی مواد خاص طور پر میمز کی صورت میں سامنے آیا۔

اس ڈیجیٹل سرگرمی نے ایک نئی جہت اختیار کی جہاں نوجوانوں نے اپنے انداز میں قومی موقف کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا چینلز، اینکرز اور صحافیوں نے بھی اس دوران غیر معمولی سنجیدگی، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھا اور غیر ضروری سنسنی خیزی سے اجتناب کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنایا، اس کے برعکس بھارتی میڈیا میں غیر ضروری ڈرامائیت اور مبالغہ آرائی کا عنصر نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی بیانیہ موثر انداز میں اجاگر ہوا تو دوسری جانب بھارت کے پاس سچ سننے اور قبول کرنے کی صلاحیت نہیں تھی تو انہوں نے ہمارے یو ٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی، جواباً ہم نے بھارت کے یوٹیوب چینلز پر پابندی نہیں لگائی تاہم ہماری ٹیم نے ایک حکمت عملی مرتب کی اور پاکستانی ملی نغمے، ترانے، پاکستانی پرچم ، پاکستان کی مسلح افواج اور جے ایف 17 تھنڈر کی تصاویر اور ویڈیوز بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے صارفین تک پہنچائیں جس کے نتیجے میں بھارتی عوام خود اپنی حکومت سے سوال کرنے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لئے الگ اور مخصوص حکمت عملی اپنائی جس کے دوررس نتائج برآمد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’معرکہ حق ‘‘کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے، یہ ہمارے لئے انتہائی فخر کا لمحہ ہے، آج ہم پاکستانی ہونے کے ناطے فخر سے کھڑے ہیں، دنیا ہماری کوششوں کو تسلیم کرتی ہے اور ہمیں ایک سنجیدہ ملک کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف اسی طرح جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سول و عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے، وزیراعظم کا وڑن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت عملی اور سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج آ رہے ہیں جس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔