ملکی تاریخ کا بڑا ہاؤسنگ اسکینڈل، اسلام آباد ہاؤسنگ سوسائٹی میں 6 ہزار پلاٹس کی گنجائش پر 42 ہزار فائلیں فروخت

ہزاروں فائلوں کی مکمل ادائیگی اور الاٹمنٹ کا ریکارڈ یا تو موجود نہیں یا پھر دستیاب ہی نہیں،ڈپلیکیٹ اور زائد فائلوں کو منظم انداز میں فروخت کرکے عوام سے اربوں روپے بٹورے گئے

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 8 مئی 2026 15:24

ملکی تاریخ کا بڑا ہاؤسنگ اسکینڈل، اسلام آباد ہاؤسنگ سوسائٹی میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2026ء) اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ( ICHS)اسکینڈل میں بڑے پیمانے پر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل کی تحقیقات میں ایک بڑے مالی فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جسے پاکستان کی تاریخ کے بڑے ہاؤسنگ اسکینڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر پلاٹس کی تقریباً 36 ہزار فائلیں غیر قانونی طور پر جاری کی گئیں، حالانکہ سوسائٹی کے پاس اتنی زمین موجود ہی نہیں تھی۔

’دی نیوز‘ کے مطابق نیب راولپنڈی اور نیب اسلام آباد کی تحقیقات سے واقف ذرائع کے مطابق سوسائٹی کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور دستیاب زمین کے مطابق صرف تقریباً 6 ہزار فائلیں جاری ہونا ممکن تھا، تاہم سابق عہدیداران اور مبینہ سہولت کاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 42 ہزار فائلیں جاری کر دیں۔

(جاری ہے)

اس بڑے فرق کے باعث دستیاب زمین اور الاٹمنٹس کے درمیان سنگین عدم توازن پیدا ہوا، جس نے ہزاروں متاثرین کو مالی نقصان اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق اب تک تقریباً 36 ہزار فائلوں کو غیر قانونی، زائد یا دستیاب زمین کے بغیر قرار دیا گیا ہے جس سے کئی برسوں پر محیط مبینہ فراڈ، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ مزید تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہزاروں فائلوں کی مکمل ادائیگی اور الاٹمنٹ کا ریکارڈ یا تو موجود نہیں یا پھر دستیاب ہی نہیں۔

حکام کے مطابق، متعدد شہریوں کو مبینہ طور پر ایسی زمین کے بدلے پلاٹ فائلیں فروخت کی گئیں جو یا تو موجود ہی نہیں تھی، یا اس کی قانونی منظوری نہیں تھی، یا پھر کبھی درست طور پر دستاویزی شکل میں نہیں لائی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کے لینڈ بینک اور جاری کردہ فائلوں کی تعداد میں بڑا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جعلی، ڈپلیکیٹ اور زائد فائلوں کو منظم انداز میں فروخت کرکے عوام سے اربوں روپے بٹورے گئے۔

اب تک تحقیقات میں 16 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو چکا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ریکارڈ اور مالی لین دین کی مزید تحقیقات ہو رہی ہیں، اس رقم میں بڑا اور واضح اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔ نیب حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کیس میں سابق مینجمنٹ کمیٹی اور ایک لینڈ ڈیلنگ کمپنی سے تعلق رکھنے والے 7؍ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار افراد میں سابق سیکرٹری جنرل مہدی خان شاکر، سابق خزانچی ملک محمد نواز، سابق ایگزیکٹو ممبر محمد ارشد اور لینڈ اسٹاک ڈیلنگ پوائنٹ کمپنی سے وابستہ چار افراد، منیر اختر، علی محمود، یامین ملک اور غلام جیلانی شامل ہیں۔

دریں اثناء احتساب عدالت اسلام آباد نے مزید تحقیقات، دستاویزی شواہد کی بازیابی، مالی لین دین کی کھوج اور اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث دیگر سہولت کاروں کی نشاندہی کیلئے نیب کو ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ تحقیقات سے آگاہ حکام کے مطابق یہ کیس مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ تفتیشی ٹیمیں سوسائٹی کی انتظامیہ، زمین کے انتظام اور مالیاتی معاملات سے جڑے دیگر افراد کے کردار کا جائزہ لے رہی ہیں۔ مختلف ٹیمیں جرم کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ انکوائری جلد مکمل ہوسکے، توقع ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے پر مزید گرفتاریاں ہوں گی۔