تحفظ ماحول: تیل کی بڑھتی قیمتیں پلاسٹک سے دوری کا سبب ہو سکتی ہیں
یو این
جمعہ 8 مئی 2026
19:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پلاسٹک کی پیداواری لاگت بھی بڑھ گئی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا ایک اہم محرک ہے لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔
زیادہ تر پلاسٹک تیل اور گیس سے تیار ہوتا ہے اور جب اس ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو پلاسٹک بنانے پر اٹھنے والے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
موجودہ حالات میں پلاسٹک کے ضیاع میں کمی لانے، اسے دوبارہ کام میں لانے کے نظام کو ترقی دینے اور ماحول دوست پلاسٹک میں سرمایہ کاری کی ترغیب پیدا ہوئی ہے۔پلاسٹک کی معیشت صرف کچرے کا نہیں بلکہ ماحولیات کا مسئلہ بھی ہے۔ پلاسٹک کا استعمال بڑھنے سے اس کی آلودگی بھی بڑھتی ہے جو نہ صرف ارضی حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے بلکہ اس سے موسمیاتی تبدیلی میں بھی شدت آتی ہے۔
(جاری ہے)
پلاسٹک، تیل اور موسمیاتی تبدیلی
زیادہ تر پلاسٹک پیٹرو کیمیکلز سے بنتا ہے جو تیل اور قدرتی گیس سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) کے مطابق، پلاسٹک جب تک موجود رہتا ہے، اس سے گرین ہاؤس گیسیں بھی خارج ہوتی رہتی ہیں۔ یہ اخراج اس کی تیاری کے لیے خام مال کے حصول اور ریفائننگ سے لے کر پیداوار، نقل و حمل اور تلفی تک جاری رہتا ہے۔
یونیپ کا کہنا ہے کہ یہ نقصان دہ گیسیں موسمیاتی تبدیلی کو بڑھا رہی ہیں۔ اگر پلاسٹک کی پیداوار اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو ان گیسوں کے اخراج میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
تبدیلی کی گنجائش
پلاسٹک سستا، پائیدار، ہلکا اور کثیر المقاصد ہونے کی وجہ سے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ پیکیجنگ کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔ کھانے کے ریپر، بوتلیں، شاپنگ بیگ اور ایک مرتبہ استعمال ہونے والے کنٹینر اس کی نمایاں مثال ہیں۔
یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں آسانی سے ماحول دوست متبادل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تعمیراتی شعبہ بھی پلاسٹک کا بڑا صارف ہے جہاں پلاسٹک کے پائپ، انسولیشن، فرش اور کھڑکیوں کے فریم استعمال ہوتے ہیں اور یہ جزوی طور پر ماحول دوست اشیا سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پولیسٹر کپڑوں، کھلونے، فرنیچر اور گھریلو استعمال کی عام اشیا میں بھی بڑی مقدار میں پلاسٹک استعمال ہوتا ہے اور ان کے ماحول دوست متبادل بھی کسی حد تک موجود ہیں۔
نقل و حمل کے شعبے (جیسا کہ گاڑیوں کے پرزوں) اور الیکٹرانکس میں بھی پلاسٹک استعمال ہوتا ہے جنہیں فوری طور پر ماحول دوست اشیا سے تبدیل کرنا آسان نہیں۔
طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں جیسا کہ سرنجوں، پی پی ای اور جراثیم سے پاک پیکیجنگ کا ماحول دوست متبادل تیار کرنا بہت مشکل ہے۔
پلاسٹک کا مفید استعمال
دنیا
بھر میں تقریباً ایک تہائی پلاسٹک کو آسانی سے ماحول دوست اشیا سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کئی ممالک نے پہلے ہی پلاسٹک کے شاپنگ بیگ اور برتنوں پر پابندی لگا دی ہے اور لوگوں کو دوبارہ استعمال ہونے والے تھیلے اور دھات یا لکڑی کے برتن استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔یونیپ کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی پیداوار، استعمال اور تلفی کے طریقوں پر دوبارہ غور کرنا ہو گا۔ ہر طرح کے پلاسٹک پر پابندی لگانا ضروری نہیں بلکہ قابل اجتناب اور مسئلہ پیدا کرنے والے پلاسٹک کو ختم کرنا اہم ہے۔
- تمام پلاسٹک ایک جیسے نقصان دہ نہیں ہوتے۔
- پلاسٹک کی انسولیشن عمارتوں کے اخراجات کو کم کر سکتی ہے۔
- ہلکے وزن والے گاڑیوں کے پرزے ایندھن کی کھپت میں کمی لا سکتے ہیں۔
مہنگے معدنی ایندھن کے فوائد
- پلاسٹک کی وسیع ضرورت معدنی ایندھن کی طلب کو برقرار رکھ سکتی ہے، لیکن تیل کی بلند قیمتیں اس معاملے میں تبدیلی کے لیے ایک خاموش مگر موثر محرک ثابت ہو سکتی ہیں۔
- تیل و گیس کی قیمت بڑھنے سے جب نیا پلاسٹک مہنگا ہو جاتا ہے تو زیادہ پیکیجنگ غیر ضروری محسوس ہونے لگتی ہے، اس لیے کمپنیاں سستے متبادل تلاش کرتی ہیں۔
- ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی اشیا، جیسا کہ فوڈ کنٹینر اپنی قیمت کا فائدہ کھو دیتے ہیں تو ان کی جگہ شیشے کی بوتلیں یا دوبارہ استعمال ہونے والی چیزیں لے لیتی ہیں۔
- پلاسٹک کی اشیا پر پابندیوں اور ٹیکس کو عوامی حمایت ملتی ہے اور ری سائیکلنگ کے فوائد زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔
نقصان دہ پلاسٹک سے چھٹکارا
معدنی ایندھن سے بنایا جانے والا پلاسٹک مہنگا ہوتا جائے گا تو دنیا کے پاس اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کا ایک عملی راستہ ہو گا کہ:
- غیر ضروری پلاسٹک کا استعمال کم کیا جائے۔
- پلاسٹک کے دوبارہ استعمال کو فروغ دیا جائے۔
- جہاں ممکن ہو پلاسٹک کے متبادل سے کام لیا جائے۔
- باقی رہ جانے والے ضروری پلاسٹک کو ماحول دوست بنایا جائے۔
مزید اہم خبریں
-
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے
-
سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز پر امریکہ اور بحرین کی مشترکہ قرارداد
-
تحفظ ماحول: تیل کی بڑھتی قیمتیں پلاسٹک سے دوری کا سبب ہو سکتی ہیں
-
آسٹریلیا کا کالعدم بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اعلان
-
عوام کو مہنگائی کا تگڑا جھٹکا، مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی
-
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان
-
ایران کے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے ‘ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے.ایرانی ترجمان
-
آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.ایرانی سفیر
-
آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے. ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل
-
آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدا چینی ٹینکر حملے کا نشانہ بنا ہے. ترجمان چینی وزارت خارجہ
-
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک کو انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
-
ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ”دشمن ٹھکانے“ کے طور پر دیکھتا ہے.ایرانی رکن پارلیمان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.