Live Updates

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک کو انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

وزیرخارجہ مارکو روبیو نے یکم مئی کو بحرین، اسرائیل، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے لیے معاہدوں کی ہنگامی منظوری دی تھی. ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 8 مئی 2026 18:29

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک کو انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر ..
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 مئی ۔2026 ) امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو فضائی دفاعی نظام سے منسلک انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق ان دفاعی معاہدوں کی مجموعی مالیت 25.8 ارب ڈالر ہے، جو گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ظاہر کی گئی رقم سے تین گنا زیادہ ہے.

(جاری ہے)

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق مارکو روبیو نے یکم مئی کو بحرین، اسرائیل، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے لیے اِن معاہدوں کی ہنگامی منظوری دی تھی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ کانگریس کے اراکین کو اس حکومتی اقدام پر بریفنگ دی گئی ہے. گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ نے خلیجی اتحادیوں کے لیے 8.6 ارب ڈالر کے فوری نوعیت کے ہتھیاروں کے معاہدوں کی منظوری کا اعلان کیا تھا، مگر ان معاہدوں میں بحرین کا ذکر شامل نہیں تھا ابتدائی طور پر بتائے گئے اعداد و شمار میں فرق کی وجہ انتظامی نوعیت کا معاملہ بتایا گیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ ان معاہدوں کو نئے سودوں کے بجائے سابقہ منظوریوں میں ترمیم قرار دیتی ہے.

امریکہ کے مطابق یہ دفاعی ڈیلز ا±ن اتحادی ممالک کے لیے امریکی عزم کو ظاہر کرتی ہیں جن پر 28 فروری کے بعد سے ایران کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں دوسری جانب ان ممکنہ معاہدوں کا حجم اور امریکا کی جانب سے ان ہتھیاروں کی پیداوار کی سست رفتاری ایسے سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ شراکت دار ممالک کو یہ اسلحہ کتنی جلدی فراہم کیا جا سکے گا. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فہرست میں امریکی جنگی سازوسامان کے سب سے بڑے خریدار سعودی عرب کا نام شامل نہ ہونا تشویشناک ہے ‘ماضی میںسعودی عرب امریکی جہازوں اور جنگی سازوسامان کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے تاہم کچھ عرصے سے سعود ی پالیسی میں نمایاں تبدیلی نظرآنا شروع ہوئی ہے ‘مڈل ایسٹ کے سب سے بڑے اور اہم ترین ملک نے امریکا کے علاوہ چین اور روس سے بھی تعلقات بڑھانا شروع کیئے ہیں جسے سفارتی حلقے اہم تبدیلی قراردے رہے ہیں .

عالمی امورکے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی سفارتی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جو عالم اسلام کے مرکزکے لیے خوش آئندہ ہے کہ الریاض اپنی منفرد حیثیت کی وجہ سے روس اور چین کے ساتھ بھی اسی طرزپر دوستانہ تعلقات قائم کررہا ہے جس طرح اس کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ہیں ‘ان کا کہنا ہے کہ روس اور چین دونو ں بڑے ملکوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے ‘اسی طرح ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ویژن 2030کی تکمیل کے لیے امریکا کی پرانی ٹیکنالوجی کی بجائے چین کی جدید ترین اور سستی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہے ہیں اسی طرح روس کا جنگی دفاعی نظام امریکی نظام کے مقابلے میں زیادہ موثراور قیمت میں کم ہے ان کا کہنا ہے کہ چین اور روس شراکت داری پر یقین رکھتے ہیں ان کا رویہ واشنگٹن کی طرح حاکمانہ نہیں ‘ان کے نزدیک واشنگٹن کے اتحادیوں اور دوسرے ملکوں کے ساتھ حاکمانہ رویے کی وجہ سے ہی اس کے دیرینہ ساتھی دور ہورہے ہیں خاص طورپر ٹرمپ انتظامیہ کے عہد صدارت کے دوران امریکا نے زیادہ شدت کے ساتھ اس رویئے کو اپنایا اسی طرح پابندیوں ‘عالمی مالیاتی اداروں اور قرضوں کو اقوام کے خلاف بطورہتھیار استعمال کرنے کی وجہ سے بھی امریکا کے اتحادی اس سے نالاں ہیں. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات