Live Updates

ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ”دشمن ٹھکانے“ کے طور پر دیکھتا ہے.ایرانی رکن پارلیمان

تہران کے پاس ٹھوس شواہد ہیں‘ متحدہ عرب امارات نے جنگ کے دوران نہ صرف ایران کے خلاف اہم عسکری اور انٹیلیجنس تعاون فراہم کیا بلکہ اماراتی طیاروں نے نشانات مٹا کر براہِ راست ایرانی سرزمین پر حملے کیے. رکن قومی سلامتی کمیٹی علی خضریان کا بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 8 مئی 2026 18:27

ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ”دشمن ٹھکانے“ ..
تہران(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 مئی ۔2026 ) ایرانی پارلیمان اور قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علی خضریان نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اہم عسکری اور انٹیلیجنس تعاون فراہم کیا اور تہران کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اماراتی طیاروں نے نشانات مٹا کر براہِ راست ایرانی سرزمین پر حملے کیے.

(جاری ہے)

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی کردستان ریجن کے حوالے سے سکیورٹی حکمت عملی میں اب متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی وقت اس بات کی توقع رکھنی چاہیے کہ جس طرح اربیل میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی طرح امارات میں موجود اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا ان کا اشارہ ایرانی سرحد کے قریب عراقی شہر کی جانب تھا جہاں موجود متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے پر ایران نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں شدید حملے کیئے تھے.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اربیل کے سرحدی علاقوں سے مسلح جنگجو کردوں کو ایران میں داخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اس سلسلہ میں امریکی صدر نے کردراہنماﺅں سے فون پر بات بھی کی تھی‘بعدازں ایک انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ امریکا نے کردوں کو بہت ساری گاڑیاں اور اسلحہ فراہم کیا تھا شاید کردراہنماﺅں نے جنگی سازوسامان خود رکھ لیا اور اسے سرحد کے پار نہیں پہنچایا.

ادھر ایرانی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اربیل میں ہمسایہ عرب ملک کا قونصل خانہ ایران کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے جس کے بعد ایران نے اپنی سرحد کے قریب اس عراقی علاقے میں بڑے پیمانے پر حملے کیئے تھے جن میں یواے ای کے قونصل خانے پر حملے بھی شامل ہیں جوتہران کے نزدیک ایران میں جاری حکومت مخالف تحریک کے مرکزکے طورپر کام کررہا تھا اور وہیں سے ایران میں اسلحہ‘جاسوسی کے آلات‘پیسہ اور گولہ بارود سرحد پار ایرانی علاقوں میں بجھوایا جاتا رہا ہے.

ایرانی رکن پارلیمان کے مطابق ایران اب متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ”دشمن ٹھکانے‘ ‘کے طور پر دیکھتا ہے گذشتہ دو ماہ کے دوران جنگ کے آغاز کے بعد ایران متعدد بار ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اماراتی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنا چکا ہے‘ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل اعتراف کرچکا ہے کہ جنگ کے آغازسے اسرائیلی دفاعی نظام”آئرن ڈوم“ اور اسرائیلی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکار یواے ای میں تعینات تھے‘ایران کے مطابق وہ یواے ای میں انہی ہوٹلو ں اور نجی عمارتوں کو نشانہ بناتا رہا ہے جہاں اسرائیلی فوج اور خفیہ ایجنسی موساد کے اہلکار وں نے اپنے عارضی مراکزقائم کررکھے تھے. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات