سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز پر امریکہ اور بحرین کی مشترکہ قرارداد
یو این
جمعہ 8 مئی 2026
19:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 08 مئی 2026ء) بحرین اور امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کو سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اقوام متحدہ
میں بحرین کے مستقل سفیر جمال فارس الرواعی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خلیجی خطے کے استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔موجودہ حالات نے اس بات کی اہمیت مزید واضح کر دی ہے کہ اس آبی گزرگاہ کو محفوظ، پرامن اور مکمل طور پر کھلا رکھنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ قرارداد سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جسے مارچ میں منظور کیا گیا تھا۔
(جاری ہے)
اس میں ایران کی جانب سے سات ہمسایہ ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی گئی تھی۔
حالیہ قرارداد کے مسودے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں مال بردار بحری جہازوں پر حملے اور دھمکیاں فوری بند کرے اور اس سمندری راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے اور غیر قانونی ٹول ٹیکس وصول کرنے سے باز رہے۔ اس میں اقوام متحدہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امدادی راہداری قائم کرنے کی کوششوں میں شرکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
عالمی تجارت کو خطرہ: امریکہ
امریکا کے سفیر مائیک والز نے کہا ہے کہ مسئلہ صرف اس خطے کا نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے آزاد بحری آمدورفت برقرار رکھنے کا ہے۔ جو لوگ اس نظام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں یا اسے سبوتاژ کرتے ہیں وہ انتہائی خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں اور درحقیقت عالمی تجارت کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔
مجوزہ قرارداد ایران سے چند سادہ اور واضح اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے تہران کی جانب سے پرشین گلف سٹریٹس اتھارٹی کے قیام کا اعلان باعث تشویش ہے جس کے تحت دنیا بھر کے جہازوں سے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے پر کرایہ وصول کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا متاثر ہو گی۔
ناقص اور یکطرفہ قرارداد: ایران
اقوام متحدہ
میں ایران کے سفیرامیر سعید ایراوانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس قرارداد کے مسودے کو انتہائی ناقص اور یکطرفہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت کا تحفظ ہے جبکہ زمینی حقائق اس سے برعکس ہیں۔امریکی
حکومت کے اقدامات سے صرف کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بحران کا واحد حل جنگ کا مستقل خاتمہ اور امریکا کی بحری ناکہ بندی ترک کرنا ہے۔مزید اہم خبریں
-
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے
-
سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز پر امریکہ اور بحرین کی مشترکہ قرارداد
-
تحفظ ماحول: تیل کی بڑھتی قیمتیں پلاسٹک سے دوری کا سبب ہو سکتی ہیں
-
آسٹریلیا کا کالعدم بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اعلان
-
عوام کو مہنگائی کا تگڑا جھٹکا، مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی
-
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان
-
ایران کے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے ‘ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے.ایرانی ترجمان
-
آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.ایرانی سفیر
-
آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے. ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل
-
آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدا چینی ٹینکر حملے کا نشانہ بنا ہے. ترجمان چینی وزارت خارجہ
-
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک کو انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
-
ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ”دشمن ٹھکانے“ کے طور پر دیکھتا ہے.ایرانی رکن پارلیمان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.