آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے. ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل

آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے ہرمز میں سلامتی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تشویش کا معاملہ ہے.اقوام متحدہ سعودی عرب کے مستقل مندوب کی پریس کانفرنس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 8 مئی 2026 18:33

آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر ..
نیویارک/ریاض(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 مئی ۔2026 ) اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے ہرمز میں سلامتی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تشویش کا معاملہ ہے.

(جاری ہے)

سعودی سفیر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی خلیجی قرارداد کے مسودے سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آبنائے میں حالیہ پیش رفت نے تناﺅ، خطرات اور انسانی، معاشی و سیکیورٹی اثرات میں اضافہ کر دیا ہے سعودی سفیر نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، ساتھ ہی بنیادی اشیاءبشمول غذائی مواد، طبی آلات اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بن رہی ہے اس صورت حال سے ان کمزور معیشت والے ممالک پر سنگین نتائج مزید بڑھ جاتے ہیں جو توانائی کے ذرائع کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں.

ڈاکٹر عبد العزیز الواصل نے زور دیا کہ ان اثرات کا مجموعہ مزید کشیدگی کو روکنے اور اس اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی شدید ضرورتکو واضح کرتا ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت دینا ایک انسانی ضرورت ہے دوسری جانب سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے اور اس کی مذمت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور مارکیٹوں کے استحکام اور سپلائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کا کہا ہے سعودی عرب نے لاجسٹک روابط کو مضبوط بنا کر اور نقل و حمل، سٹوریج اور سپلائی چینز کی لچک کے شعبوں میں تعاون کی حمایت کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی بہاو¿ کی روانی برقرار رکھنے میں اپنا کردار جاری رکھنے پر زور دیا ہے.

سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے ویڈیو لنک کے ذریعے گروپ ” ایم ای ڈی نائن “ کے رکن ملکوں، عرب لیگ کے رکن ملکوں اور مغربی بلقان کے پارٹنر ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے اور منڈیوں کے استحکام اور رسد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور لاجسٹک روابط کو بہتر بنا کر اور نقل و حمل، اسٹوریج اور سپلائی چینز کی لچک میں تعاون کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی تجارتی بہاﺅ کی روانی برقرار رکھنے میں اپنے کردار کو جاری ر کھے گا.

سعودی عرب نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ جہاز رانی کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے جس کی ضمانت قانون دیتا ہے اور اس کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے انجینئر ولید الخریجی نے کہا کہ یہ چیلنجز ایسی اجتماعی ہم آہنگی کے متقاضی ہیں جو بحری گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے. انہوں نے کہا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عملی اقدامات پر توجہ دی جائے جو دستیابی کو بڑھانے اور بنیادی رسد تک رسائی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں تاکہ شراکت داروں کے درمیان تعاون کو فروغ ملے اور علاقائی و بین الاقوامی استحکام کی حمایت ہو سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے کہا کہ ان رکاوٹوں کے اثرات کھادوں اور بنیادی غذائی سامان کی نقل و حرکت پر اثر انداز ہو کر عالمی غذائی تحفظ کے نظام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اس سے اس بات کی ضرورت بھی واضح ہوتی ہے کہ خوراک اور کھادوں کو کسی بھی ایسے دباﺅ یا طریقوں سے الگ رکھا جانا چاہیے.