Live Updates

آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.ایرانی سفیر

امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں اوراس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے .اقوام متحدہ میں ایرا ن کے مستقل مندوب امیر سعید اروانی کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 8 مئی 2026 18:34

آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ ..
نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 مئی ۔2026 ) اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل مندوب امیر سعید اروانی نے امریکہ اور بعض عرب ممالک کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.

(جاری ہے)

انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے اس کے برعکس امریکہ”بحری جہاز کی آزادی“کی آڑ میں سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے.

ان کے مطابق یوں امریکہ بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے ایروانی نے قرارداد کے مسودے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے اس مسودے کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے.

انہوں نے کہا کہ قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی ادارے کی طرف سے غیر قانونی فوجی جارحیت اور طاقت کا استعمال ہے اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران 28 فروری 2026 سے امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے‘واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے قراردادپیش کیئے جانے کی صورت میں اسے چین‘روس اور فرانس کی جانب سے ویٹو کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی ایک نائب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ چین اور روس امریکی قراردادکے خلاف اپنا ویٹو استعمال نہیں کریں گے.

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے سعودی عرب کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی ممانعت کے بعد ممکن ہے امریکا قراردادواپس لے اور اگر وہ اس قراردادکو پیش کرتا ہے تو چین اور روس کا موقف بہت واضح ہے کہ وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے اور قرارکے خلاف اپنا ویٹو استعمال کریں گے جبکہ امریکا کوماضی کی طرح سلامتی کونسل کے مستقل ارکان فرانس او ربرطانیہ کی غیرمشروط حمایت حاصل نہیں رہی بلکہ قرارداد پر ووٹنگ کی صورت میں چین اور روس کے ساتھ فرانس بھی اسے روکنے کے لیے اپنا ویٹو استعمال کرسکتا ہے.
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات