آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.ایرانی سفیر
امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں اوراس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے .اقوام متحدہ میں ایرا ن کے مستقل مندوب امیر سعید اروانی کی گفتگو
میاں محمد ندیم
جمعہ 8 مئی 2026
18:34
(جاری ہے)
انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے اس کے برعکس امریکہ”بحری جہاز کی آزادی“کی آڑ میں سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے. ان کے مطابق یوں امریکہ بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے ایروانی نے قرارداد کے مسودے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے اس مسودے کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے. انہوں نے کہا کہ قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی ادارے کی طرف سے غیر قانونی فوجی جارحیت اور طاقت کا استعمال ہے اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران 28 فروری 2026 سے امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے‘واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے قراردادپیش کیئے جانے کی صورت میں اسے چین‘روس اور فرانس کی جانب سے ویٹو کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی ایک نائب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ چین اور روس امریکی قراردادکے خلاف اپنا ویٹو استعمال نہیں کریں گے. دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے سعودی عرب کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی ممانعت کے بعد ممکن ہے امریکا قراردادواپس لے اور اگر وہ اس قراردادکو پیش کرتا ہے تو چین اور روس کا موقف بہت واضح ہے کہ وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے اور قرارکے خلاف اپنا ویٹو استعمال کریں گے جبکہ امریکا کوماضی کی طرح سلامتی کونسل کے مستقل ارکان فرانس او ربرطانیہ کی غیرمشروط حمایت حاصل نہیں رہی بلکہ قرارداد پر ووٹنگ کی صورت میں چین اور روس کے ساتھ فرانس بھی اسے روکنے کے لیے اپنا ویٹو استعمال کرسکتا ہے.
مزید اہم خبریں
-
عوام کو مہنگائی کا تگڑا جھٹکا، مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی
-
برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان
-
ایران کے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے ‘ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے.ایرانی ترجمان
-
آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے.ایرانی سفیر
-
آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے. ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل
-
آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدا چینی ٹینکر حملے کا نشانہ بنا ہے. ترجمان چینی وزارت خارجہ
-
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک کو انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
-
ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ”دشمن ٹھکانے“ کے طور پر دیکھتا ہے.ایرانی رکن پارلیمان
-
وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مبینہ ٹارگٹڈ بے دخلی کی خبروں کو مسترد کر دیا
-
تھیلیسیمیا ایک سنجیدہ موروثی مرض ہے، جس سے بچاؤ کے لیے آگاہی اور بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے،وزیراعلیٰ سندھ
-
گورنرسندھ سید محمد نہال ہاشمی سے چیئرمین پی آئی ڈی سی ایل وسیم اختر باجوہ کی ملاقات، گرین لائن اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ
-
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا 52واں اجلاس، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.