Live Updates

برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 8 مئی 2026 18:40

برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 مئی 2026ء) قومی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کیے ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے کہ ووٹروں نے اسٹارمر کی لیبر حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ خاص طور پر وسطی اور شمالی انگلینڈ کے ان سابق صنعتی علاقوں میں جو روایتی طور پر لیبر پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔

جمعے کے روز حکمران لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس سے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکمرانی کی صلاحیت پر شکوک مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ 'تبدیلی‘ لانے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ان بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ فائدہ بریگزٹ کی حامی مہم کے رہنما نائجل فراج کو ہوا۔

(جاری ہے)

ان کی ریفارم یو کے نامی پارٹی نے انگلینڈ میں 350 سے زائد کونسل نشستیں حاصل کیں، جب کہ یہ پارٹی اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں آزادی کی حامی جماعتوں اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی اور پلائد کامری کے مقابلے میں اہم اپوزیشن کے طور پر بھی ابھر سکتی ہے۔

نتائج سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ برطانیہ کا روایتی دو جماعتی سیاسی نظام اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کثیر الجماعتی جمہوریت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گزشتہ ایک صدی میں برطانوی سیاست کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

کبھی سیاست پر حاوی رہنے والی لیبر اور کنزرویٹو پارٹیاں اب ووٹرز کھو رہی ہیں جب کہ ایک طرف ریفارم یو کے اور دوسری جانب گرین پارٹی اپنا اثر بڑھاتی جا رہی ہیں، اور اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں قوم پرست جماعتوں کو بھی حمایت مل رہی ہے۔

’میرا عزم کمزور نہیں ہوا،‘ اسٹارمر

انتخابی نقصانات کے باوجود کیئر اسٹارمر کے اتحادیوں نے ان کی حمایت کا اشارہ دیا، حالانکہ ان کی عوامی مقبولیت برطانیہ کے کسی بھی وزیر اعظم کے مقابلے میں بدترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم اسٹارمر نے اپنی جماعت کے لیے ایک نسبتاً مثبت انتخابی مقام کا دورہ بھی کیا تاکہ یہ واضح کر سکیں کہ وہ اپنی پالیسیوں پر عمل جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مغربی لندن کے علاقے ایلنگ میں، جہاں لیبر پارٹی لوکل کونسل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔‘‘

اسٹارمر نے کہا کہ ووٹر ان کی قیادت کے بجائے تبدیلی کی رفتار کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کو بدلنے کے لیے ضروری اقدامات متعارف کرانے کا وعدہ کیا، جو اس حکومت کی ایک نئی حکمت عملی کی علامت ہے۔

حکومت اب تک اپنے قومی وژن کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے اور مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے بحران سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار رہی ہے، ایک ایسا بحران جو یوکرین اور ایران کے تنازعات کے باعث مزید سنگین ہو گیا ہے۔

انگلینڈ کی 136 مقامی کونسلوں اور اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی خود مختار پارلیمانوں کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہونے والے بڑے نقصان سے انکار ممکن نہیں۔

یہ انتخابات 2029 میں متوقع اگلے قومی عام انتخابات سے قبل عوامی رائے کا سب سے اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔

برطانیہ کے معروف ماہر رائے شماری جون کرٹس نے کہا، ''نتائج تقریباً اتنے ہی خراب رہے ہیں جتنے لیبر کے لیے متوقع تھے، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ خراب۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے سبب اسٹارمر پر استعفیٰ دینے یا کم از کم اپنی رخصتی کے لیے کوئی ٹائم لائن دینے کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے، حالانکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے خلاف اقدامات کا وقت نہیں۔

ان کے خیال میں برطانوی وزیر اعظم اب بھی نتائج مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسٹارمر کی مشکلات

کیئر اسٹارمر، جو پیشے کے لحاظ سے ایک سابق وکیل ہیں،2024 میں جدید برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریتوں میں سے ایک کے ساتھ وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ برسوں کے سیاسی انتشار کے بعد استحکام فراہم کریں گے۔

لیکن ان کے دور حکومت کو پالیسیوں میں یوٹرنز، مشیروں کی بار بار تبدیلی، اور پیٹر مینڈلسن کی امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کے طور پر تقرری جیسے معاملات نے متاثر کیا۔ مینڈلسن کو اس عہدے پر صرف نو ماہ بعد اس وقت برطرف کر دیا گیا جب ان کے امریکی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کا انکشاف ہوا تھا۔

بہر حال اسٹارمر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوئی فوری کوشش متوقع نہیں لگتی۔

تاہم اگر وہ مستعفی ہوتے ہیں تو ان کی جگہ لینے کے لیے دو نمایاں نام سامنے آتے ہیں۔ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہیم اور سابق نائب وزیر اعظم انجیلا رینر۔ لیکن دونوں فی الحال اس پوزیشن میں نہیں کہ قیادت کے لیے مؤثر مہم چلا سکیں، جبکہ دیگر ممکنہ حریف بھی ابھی ان کے خلاف کھل کر سامنے آنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات