2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے

مہنگائی اور بےروزگاری نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے، بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 8 مئی 2026 19:45

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک ..
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 07 مئی 2026ء ) وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2022 کے بعد پھر وہی پالیسیاں واپس لائی گئیں جنہوں نے ہمارے صوبے کا امن تباہ کیا تھا۔ خیبرپختونخوا کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد قربانیاں دیں، ہمارے معصوم شہری، جوان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید ہوئے۔

ہم مسلسل خبردار کرتے رہے کہ ان عناصر کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے، صوبے کو ایک بار پھر آگ میں نہ دھکیلا جائے، مگر ہماری آواز کو نظر انداز کیا گیا۔ آج حالات سب کے سامنے ہیں۔

(جاری ہے)

زبردستی ملٹری آپریشنز، بے گناہ عوام کا نقصان، معصوم جانوں کی شہادتیں اور ہر طرف خوف کی فضا دوبارہ پیدا کی جا رہی ہے۔ چند روز قبل شیخ الحدیث صاحب کی شہادت بھی اسی بدامنی کا تسلسل ہے۔

یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے خیبرپختونخوا کا نقصان ہے۔ جب تک عوام خود اٹھ کر آواز نہیں بلند کریں گے، یہ پالیسیاں اور یہ نقصان جاری رہے گا۔ وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا کہ بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں اور منصوبہ سازوں نے بیرونی سازش اور اندرونی غداروں کے سہارے ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ 2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

جس معیشت کو 6.1 فیصد جی ڈی پی گروتھ پر چھوڑا گیا تھا، آج وہ تقریباً 3 فیصد تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔ آج نوجوان مایوسی کے عالم میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں کیونکہ یہاں روزگار، مواقع اور امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے جا چکے ہیں، مگر حکمرانوں کے پاس قوم کیلئے کوئی واضح پالیسی نہیں۔

سارا زور صرف عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے اور سیاسی انتقام پر لگایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان اور عوام کے مسائل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبر گرلز میڈیکل کالج کے کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جہاں فارغ التحصیل طالبات میں ڈگریاں اور اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن، وائس چانسلر، فیکلٹی ممبران، والدین اور طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تقریب کے دوران کالج کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ قومی اور صوبائی سطح پر ادارے کی نمایاں کامیابیوں کو بھی اُجاگر کیا گیا۔ 
وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی نے فارغ التحصیل طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف طالبات بلکہ پورے صوبے کے لیے باعثِ فخر ہے۔

وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم، ترقی اور خوشحالی کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔  خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے۔
   صوبائی حکومت عوام کو بہتر تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

صوبے میں ڈاکٹروں اور بالخصوص خواتین ڈاکٹروں کی شدید ضرورت ہے، اسی لیے 2400 ڈاکٹروں کی میرٹ پر بھرتیوں کا آغاز کیا جاچکا ہے جبکہ مزید بھرتیاں بھی کی جائیں گی۔ 
 وہ خدمت، محنت اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور اپنے حقوق کے لیے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں کیونکہ حکومت ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔