شامی وزارتِ داخلہ کا حزب اللہ پر بشار الاسد کے مجرموں کو پناہ دینے کاالزام

لبنانی وزیراعظم کی شامی صدرسے ملاقات،سرحدی کنٹرول سخت کرنے اور اسمگلنگ کو روکنے کی ضرورت پر زور

اتوار 10 مئی 2026 17:10

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 مئی2026ء) شامی وزارت داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ سابق حکومت کے دور کے کچھ مجرموں کو لبنان میں پناہ دے رہی ہے۔وزارت کے مطابق سابق نظام کے دوران جرائم میں ملوث بعض افراد لبنان فرار ہو گئے تھے اور دمشق ان کی واپسی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ شام نے لبنان کے ساتھ اعتماد سازی اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور بیروت کو سرحدی سکیورٹی کے معاملے میں ایک ''قابلِ اعتماد شراکت دار'' قرار دیا گیا ہے۔لبنانی وزیرِاعظم نواف سلام نے کہا کہ دمشق کے حالیہ دورے کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

بیان میں بتایا گیا کہ شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ ملاقات میں لبنان اور شام کے درمیان ایک مشترکہ بزنس کونسل قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔مزید کہا گیا کہ مذاکرات میں خاص طور پر سرحدی کنٹرول سخت کرنے اور اسمگلنگ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدی علاقوں کو سکیورٹی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔

گزشتہ برسوں میں بیروت اور دمشق کے سرکاری تعلقات میں کمی دیکھی گئی تھی، جس کی بڑی وجہ سابق شامی حکومت کے حوالے سے لبنانی سیاسی تقسیم تھی۔تاہم حالیہ علاقائی تبدیلیوں اور شام میں سابق نظام کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے دروازے دوبارہ کھلنے لگے ہیں۔لبنان اس وقت بھی لاکھوں شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جو جنگ کے دوران ملک چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔